اسلام آباد (ایجنسیاں)وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کا بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، جو ایک روز قبل سینیٹ سے کامیابی کے ساتھ منظور کیا گیا تھا۔ امکان ہے کہ آج قومی اسمبلی بھی اس آئینی ترمیم کی منظوری دے دے گی۔
“قومی اسمبلی کا اجلاس اور بل کی پیشکش”
اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز مسلم لیگ (ن) کے مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کیلئے دعائے مغفرت سے کیا گیا۔بعد ازاں، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ “آئینی ترامیم ہمیشہ اتفاقِ رائے سے کی جاتی ہیں۔”انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام سے دیگر مقدمات جلد نمٹائے جا سکیں گے، کیونکہ موجودہ نظام میں عدالتوں کا زیادہ وقت آئینی مقدمات میں صرف ہو جاتا ہے۔
“فیلڈ مارشل کے عہدے اور آئینی عدالت کا قیام”
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت میں تمام صوبوں اور وفاق کو نمائندگی دی گئی ہے، جبکہ عدالت کے ازخود نوٹس کے اختیار پر بھی نظرثانی کی گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ قوم کے بہادر سپوت کو مشاورت کے بعد فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا گیا، اس لیے اس عہدے کو آئینی دائرہ کار میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ان کے مطابق فیلڈ مارشل کا اعزاز تاحیات رہتا ہے اور اسے آئین میں واضح کر دیا گیا ہے۔
“صدرِ مملکت کیلئےتاحیات استثنیٰ کی تجویز”
وزیرِ قانون نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 248 میں ترمیم کے تحت صدرِ مملکت کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تاحیات آئینی استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ان کے منصب کے وقار کو برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر صدرِ مملکت ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عوامی عہدہ سنبھالتے ہیں تو استثنیٰ ختم ہو جائے گا۔
اپوزیشن کا ردعمل”جمہوریت برائے نام رہ جائے گی”
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ “اس ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ جائے گی۔”انہوں نے کہا کہ “پی ڈی ایم نے پہلے اپنے کیسز ختم کیے، اب اپنے آپ کو تاحیات استثنیٰ دے رہی ہے۔”بیرسٹر گوہر نے سوال اٹھایا کہ “دنیا کے کس صدر کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہے؟ کیا ڈونلڈ ٹرمپ یا سرکوزی کے پاس ایسا استثنیٰ تھا؟”ان کا کہنا تھا کہ عوام کے سامنے جوابدہ ہونا ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔
پیپلزپارٹی کا جواب: “اپوزیشن آئینی روایات سے نابلد ہے”
پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین بلاول بھٹو کو 27ویں ترمیم پر اعتماد میں لیا۔”انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلا کر مشاورت کی، مگر اپوزیشن نے اس اہم آئینی عمل کو غیر سنجیدگی سے لیا۔
“سیاسی پس منظر اور ووٹنگ کی صورتحال”
ذرائع کے مطابق، قومی اسمبلی میں ترمیم کی منظوری کیلئےدو تہائی اکثریت درکار ہے، جو حکومتی اتحاد کے پاس موجود ہے۔حکومتی اتحاد میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ (ق)، استحکامِ پاکستان پارٹی، مسلم لیگ (ضیا)، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پیپلز پارٹی شامل ہیں۔
گزشتہ روز سینیٹ میں بل کو اپوزیشن کے دو سینیٹرز کی غیر متوقع حمایت سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کیا گیا۔ووٹنگ کے دوران اپوزیشن کے ارکان نے شدید نعرے بازی کی، بل کی نقول پھاڑیں اور احتجاجاً واک آؤٹ کیا، تاہم حکومت نے بل بآسانی منظور کروا لیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم ملک کی سیاسی سمت اور آئینی توازن کے حوالے سے طویل المدتی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

