اسپین: پارلیمنٹ نے اسرائیل کے ساتھ ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی کا قانون منظور کر لیا

میڈرڈ، اسپین(اے ایف پی)اسپین کی پارلیمنٹ نے اسرائیل کے ساتھ ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی کا قانون منظور کر لیا، جس کے حق میں 178 اور مخالفت میں 169 ووٹ ڈالے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسپین کے قانون سازوں نے بدھ کے روز یہ قانون منظور کیا، جس کے تحت اسرائیل پر اسلحہ کی پابندی کو باضابطہ طور پر قانون میں شامل کر دیا گیا۔ یہ اقدام وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں ’نسل کشی ختم کرنے‘ کے لیے متعارف کرایا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ تنازع کے آغاز سے ہی اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، اور موجودہ قانون اس پابندی کو مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اس قانون کے تحت اسرائیل کو دفاعی سامان، مصنوعات یا ٹیکنالوجی کی تمام برآمدات اور وہاں سے ایسی کسی بھی درآمد پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ فوجی استعمال کے قابل ایوی ایشن فیول کی ترسیل پر بھی پابندی ہوگی اور غزہ و مغربی کنارے کی ’غیر قانونی کالونیوں سے آنے والی مصنوعات‘ کی تشہیر کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

پیڈرو سانچیز دنیا کے اُن چند عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جو فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی دو سال سے جاری بمباری کے سخت ناقد ہیں۔ ستمبر میں اس اعلان پر اسرائیل نے شدید ردِعمل ظاہر کیا اور 2024 میں اپنا سفیر میڈرڈ سے واپس بلا لیا تھا، جب اسپین نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔

انتہائی بائیں بازو کی جماعت پوڈیموس نے ابتدا میں اس فرمان پر تنقید کی تھی، تاہم بعد میں حمایت کر کے بائیں بازو کے اقلیتی اتحادی حکومت کے حق میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

ہسپانوی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ میں ووٹنگ کو ایک دن مؤخر کیا گیا تاکہ اسے حماس کے حملے کی دوسری برسی کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ اسرائیلی سفارت خانے نے اس منصوبے کو ’موقع پرستی اور قابلِ مذمت فیصلہ‘ قرار دیا اور پیر کی رات ایک خط میں اس پر شدید تنقید کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں