اس مرحلے پر اندرونی اختلافات کیوں؟

کبھی وہ دن بھی ہوتا ہے جب لکھنے کو کچھ نہیں ہوتا، پھر خالصہ بھائی کی طرح نہانے کو جی نہیں چاہتا، اسی لئے خالی سوئمنگ پول بھی بنایا لیکن کسی روز یہ بھی ہوتا ہے کہ موضوعات کی بھرمار کی وجہ سے مشکل ہوجاتا ہے کہ کس کو چھوڑیں اور کس کے حوالے سے اپنے دل کا غبار نکالیں۔ ارادہ تو پکا تھا اور پکا ہے کہ کرکٹ کی بدحالی کے حوالے سے لکھوں اور ایسا ہوگا لیکن یہ جو ہمارے سیاسی رہنماہم جیسے لوگوں کی نیک خواہشات کو دفن کرنے پر تلے ہوئے ہیں، یہ بھی مجبور کررہے ہیں کہ ادھر توجہ دی جائے کہ ہم بھی ہیں، ہم بھی کیسی قوم ہیں کہ ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ ملک میں استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور اس کے لئے سیاسی اور اقتصادی استحکام کی ضرورت ہے اور ملک میں مستقل امن بھی چاہیے لیکن یہی وعظ فرمانے والے ہمارے سیاسی بھائی خود ہی اس پر عمل نہیں کرتے، پہلے تو تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اختلافی امور طے کرنے کی بات ہوتی تھی، مگر انا آڑے رہی اور اب تک یہ چوٹی سر نہیں ہو سکی، حال میں اور اس سے پہلے تحریک انصاف کے اندر اختلافات کا ذکر ہو رہا ہے لیکن یکایک دو اہم ترین اتحادی آپس میں الجھ گئے ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) انتخابی نہیں، اتحادی جماعتیں ہیں، جنہوں نے مل کر اس وقت حکومتیں بنائیں جب پی ٹی آئی زوروں پر تھی اور پھر یہ اتحاد چلتا آ رہا ہے جب کبھی بھی شکایات پیدا ہوئیں بڑوں نے مل کر حل کرلیں اور بعض اوقات کئی منصوبے زیر التوا رکھ کر خاموشی اختیار کی گئی۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی سربراہی، ان لوگوں کے پاس ہے جو محاذ آرائی کا نتیجہ چکھے ہوئے ہیں اور ایک سے زیادہ بار اس کا اعتراف بھی کر چکے حتیٰ کہ ماضی میں محمد نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان میثاق جمہوریت بھی ہوا، نوابزادہ نصراللہ خان (مرحوم) نے عمر کے آخری حصے میں یہ کارنامہ بھی سرانجام دے لیا، معاہدہ ہونے کے بعد اس کی بہت پذیرائی ہوئی حتیٰ کہ دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی شمولیت کی دعوت دی جاتی رہی لیکن یہی میثاق عمل سے محروم رہا تو دوسری جماعتیں کیا کرتیں۔

کہا جاتا ہے کہ گزشتہ روز کا بھٹکا، آج راہ راست پر آجائے تو اس سے بڑا کوئی معرکہ نہیں، لیکن یہاں تو صبح کا بھولا، بار بار بھولنے کا عمل دہراتا ہے اور بار بار محاذ آرائی سے تو بہ کرکے متحد رہنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے لیکن راستے پر نہیں آتا اور بھول کر بھٹکا ہی رہتا ہے۔اس وقت حالات برسراقتدار لوگوں کے موافق ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں اس لئے آپس میں ذرا لڑ لیں۔ شاید موافق حالات میں ایک فریق کمزور ہو ہی جائے، لیکن اتنے سنجیدہ اور تجربہ کار حضرات کو ملک کے معروضی حالات کا درست ادراک نہیں ہے کہ ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور غربت کی وجہ سے لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔ میں یہ مان لیتا ہوں کہ ان تمام تر حالات کے باوجود عوام تنگ آمد کی پوزیشن پر تو نہیں آئے لیکن سفید پوش طبقہ جب غربت کی سطح پر مجبور کر دیا جائے تو پھر شعوروالے حضرات بھی مل ہی جاتے ہیں جو بے سمت لوگوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں ہر دو جماعتوں کے اکابرین سے میرا یہ سوال ہے کہ ملک میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں، آپ کی معاشی حالت تو یہ ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد کے لئے فنڈز کے استعمال کی خاطر آئی ایم ایف سے درخواست کرنا پڑتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب آپ خود یہ کہتے ہیں کہ ہر نوع کے اختلاف مذاکرات سے حل ہو جاتے ہیں تو پھر خود کیوں ڈائیلاگ پر فل سٹاپ لگا دیتے ہیں، مجھے علم ہے کہ ذہن اور دل میں ہو تو زبان پر آہی جاتا ہے لیکن مصلحت میں ہائبرڈ نظام چل سکتا ہے تو پھر آپ حضرات کے درمیان اختلاف کیوں؟ بیٹھ کر بات کیوں نہیں کر سکتے کہ اختلاف کا سراسر نقصان عوام اور ملک کو تو ہوگا لیکن خود آپ کی ذات بھی نہیں بچ سکے گی، تاریخ شاہد ہے کہ الزام سیاست دانوں پر ہی لگائے گئے اور یہ فریضہ بھی خود انہی حضرات نے مل کر انجام دیا۔

ابھی گزشتہ روز ہی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں وجہ بتائے بغیر ایک بڑا اضافہ کیا گیا ہے جو عوام پر مہنگائی کے لئے بم کا ذریعہ بنے گا، گزشتہ دو ماہ سے آپ قوم کو پٹرولیم میں ریلیف دینے کی بجائے عالمی مارکیٹ میں ہونے والی کمی کو اپنے کھاتے میں ڈالتے رہے ہیں اور اب تو عالمی سطح پر کوئی اضافہ بھی نہیں ہوا کہ یہاں قیمت بڑھا دی گئی ہے، میں ایک پروفیشنل جرنلسٹ ہونے کی حیثیت سے ماضی اور حال کے بہت سے امور کا قریبی شاہد اور واقف بھی ہوں، اس لئے درخواست ہے کہ پہلے اپنا گھر سیدھا کرلیں، پھر باقی معاملات بھی دیکھ لیں!

اس وقت دنیا میں طاقتور کا سکہ چلتا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہو کر اسی سکے کا استعمال کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے سربراہ مملکت ہیں جو ہر چار فقروں کے بعد یکطرفہ رعب کا ذکر کرتے ہیں، ٹرمپ کی طرف سے غزہ کی صورت حال کے حوالے سے جس معاہدے کو عام کرکے حماس کو دھمکی دی اور اعادہ کیا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں وہ ایسا بار بار کرتے چلے آ رہے ہیں، بات تو یہ ہے کہ جو ملک (اسلامی) مل کر اس معاہدے کے شریک تھے وہ خیر مقدم کرتے ہوئے بھی بعض تحفظات کا حوالہ دے رہے ہیں اس کے باوجود معاہدہ کو امن کی جیت اور کیا کیا کہہ رہے اور صدر ٹرمپ کو بہت بڑا دانشور صدر مان رہے ہیں، تو پھر تحفظات کیوں جو باتیں نہیں مانی گئیں ان کو کیوں نہیں منوایا گیا، اس سلسلے میں عالمی اور مقامی میڈیا کے علاوہ ماہرین اور دانشور بھی بہت کچھ کہہ رہے ہیں، اس لئے میں اپنی رائے محفوظ رکھتا ہوں، عرض صرف یہ ہے کہ ملک کے اندرونی استحکام اور حالات کی بات ہو یا عالمی سطح پر کامیابیوں کی تو یہ سب قوم اور ملک کے لئے ہونا چاہئیں لیکن ٹرمپ معاہدہ الٹے ہاتھ سے کان پکڑنے والی بات ہے کہ غزہ کے مظلوم، برباد اور متاثر عوام کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں