اشفاق حسین نے فیض پر جس قدر کام کیا ہے، وہ کہیں نہیں کیا گیا:افتخار عارف

کراچی (نامہ نگار) ممتازدانشور جناب افتخار عارف نے کہا ہے کہ اشفاق حسین ے فیض پر جس قدر کام کیا ہے وہ پاکستان سمیت دنیا نے بھر میں نہیں نہیں کیا گیا۔ فیض پر جس شدت سے کام کی ضرورت ہے اسے بہت پہلے ہونا چاہیئے تھا، بیرون ملک مقیم احباب بہت تندہی اور یکسوئی سے اس ذمہ داری کو انجام دے رہے ہیں ، یہ بات انہوں میں کراچی لٹریچر فیسٹول کے آخری روز ایک نشست بعنوان “اردو کی تازہ بستیاں سے اپنے صدارتی خطاب میں کمی ان کے تمام مقررین میں نے حارث خلیق اور اشفاق حسین شامل تھے.

نظامت عارف نے مزید کہا کہ زبان صرف ایک خاص زمانے کے فرائض زرمینہ انصاری نے انجام دیئے ۔ افتخار کی عکاس نہیں ہوتی بلکہ تمام تہذیبوں کی کہانی زبان میں ملتی ہے، بیرون ملک صرف پیسے کے حصول کے لئے کام نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے اخلاقی اور تہذیبیں شعور کو بھی وسعت ملتی ہے، افتخار عارف نے مزید کہا کہ انہوں نے یورپ میں بھی 14 سال کام کیا اس دوران مجھے الطاف گوھر سے زندگی کے رنگ ڈھنگ اور رویوں کے کا بھی علم ہوا بعض لوگ بہتر زندگی کی تے تھے اس مقصد کے تلاش میں یورپ کا رخ کرتے ۔

اسلئے پہلے برطانیہ جانا عام بات تھی اس میں ترک وطن والا معاملہ بالکل بھی نہیں ہوتا تھا ، ان کا مقصد محض یہ ہوتا تھا کہ جب حالات بہتر ہو جائیں گے تو واپس آجائیں گے۔ اُس دور میں پیش ہاؤس میں بی بی سی اردو سروس تھی وہاں انجمن ترقی اردو راجہ صاحب محمود آباد کے دور میں قائم ہوئی جس سے اس دور کی مجھ سمیت تین کی اہم شخصیت سے فائدہ اٹھایا۔ ہماری یہاں فیض احمد فیض پر بہت حقی انداز میں کام کیا گیا ہے۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اردو پر پاکستان اور بھارت میں جس قدر کام ہوا ہے اسے سراہا جانا چاہیئے ۔ جنگ اخبار نے بھی بیرون ملک اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

کنیڈا سے آئے ہوئے معروف شاعر اور ادیب اشفاق حسین نے کہا کہ پروگریسیور انرز سے اہم مرکز تھالیکن اب امریکا اور و لیکن اب امریکا اور ٹورنٹو (کینیڈا) اردو پہلے لندن ، بھارت اور پاکستان کے بعد فروغ اردو کا ثقافت کے فروغ کے مراکز بن رہے ہیں جدید ٹیکنالوجی سے آگہی وقت کی اہم ضرورت ہے یہ امر کی ہیں امر بھی حیرت انگیز ہے کہ اب تک کنیڈا سے اردو با کا پانچ سو سے زائد کتب شا کی پانچ سو سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ معروف محقق حارث خلیق نے کہا کہ اردو کی کی نئی بستیوں میں صرف امریکا ہی نمایاں تر ہے۔ ریختہ پر کوئی ایسی کتاب دستیاب نہیں جس کا جس کا جواب دیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں