عرصہ ہوا میں نے پاکستان میں اصلی جمہوریت کی اُمید، خواہش اور تلاش چھوڑ دی تھی لیکن گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن نے پھر اُمید دِلا دی، پھر ایک خواہش جگا دی کہ پاکستان میں آج بھی شاید ”اصلی جمہوریت“ لائی جا سکتی ہے۔ جمہوریت سے مراد صرف قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن نہیں ہیں بلکہ وہ جمہوریت ہے جو عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور آسائشیں فراہم کر سکے۔ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں نہ کہ انہیں اپنے مسائل کے حل کے لئے در در خوار ہونا پڑے۔ عوام زندگی بہتر انداز میں گزار سکیں اور یہ کام صرف بلدیاتی نمائندے اور بلدیاتی ادارے ہی انجام دے سکتے ہیں۔ ایک رکن قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی کا حلقہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے حلقے کے لاکھوں ووٹروں کی ”دیکھ بھال“ کر سکے، پھر اسے مختلف کاموں کے لئے وفاقی دارالحکومت یا صوبائی دارالحکومت جانا پڑے تو حلقہ ”یتیم یتیم“ سا نہ لگنے لگے۔ اس کے برعکس یونین کونسل، تحصیل یا ٹاؤن کونسل، ضلع کونسل ”ایک چھوٹے دائرے یا حدود“کے اندر ہوتے ہیں۔ جہاں کے منتخب نمائندے لوگوں کے کام آسانی سے کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں مقامی حکومتیں یعنی یونین کونسل، تحصیل و ضلعی حکومتیں اپنے عوام کی خدمت بہتر انداز میں کر رہی ہیں اور یہی جمہوریت کا اصلی حسن ہے۔ پاکستان میں بلدیاتی ادارے قیام پاکستان سے پہلے بھی موجود تھے اور قیام پاکستان کے بعد بھی کام کرتے رہے۔ پہلے مارشل لاایڈمنسٹریٹر فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنے ذاتی اقتدار کے لئے ایک نیا بلدیاتی نظام نکالا جس کو ”بنیادی جمہوریت“ کہا گیا دراصل فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی ” صدارت“ کے لئے ایک الیکٹورل کالج بنایا تھا جو بی ڈی ممبرز پر مشتمل تھا۔ ایوب خان کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت آئی اور ”نئے پاکستان“ کا ”نیا آئین“ وجود میں آیا۔ اس آئین میں بلدیاتی اداروں کا تفصیل سے ذکر موجود ہے اور آئین کی شق 140 اے (2) کے تحت بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر الیکشن کرانا لازم ہے۔ مگر آج پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں تین سال نو ماہ کی مدت گزر جانے کے باوجود بلدیاتی الیکشن نہیں کرا ئے گئے۔ جنرل ضیاء الحق نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تو بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد انہوں نے پہلے بلدیاتی الیکشن کرائے۔ اپنے بنائے بلدیاتی قانون کے تحت 1979-1983ء اور 1987ء میں تین الیکشن کروائے۔انہی الیکشنوں کے ذریعے پاکستان کی آج کی حکمران اشرافیہ نے جنم لیا آج جمہوریت کی دعویدار یہ ساری اشرافیہ اسی ”مارشل لائی دور“ کی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد بلدیاتی الیکشن 1991ء اور پھر 1998ء میں کرائے گئے۔ جنرل پرویز مشرف جب میاں نواز شریف کا تختہ الٹ کر اقتدار پہ قابض ہوئے تو بلدیاتی ادارے بھی مارشل لا کی نظر ہو گئے۔
جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں مضبوط،طاقتور اور فعال بلدیاتی حکومتوں کا ایک نیا نظام وضع کروایا۔ یہ نظام جو ضلعی حکومتوں کا نظام کہلایا جس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اختیارات لیکر ضلعی حکومتوں کے حوالے کر دیئے گئے۔ ترقیاتی کام ضلعی حکومتوں اور تحصیل حکومتوں اور یونین کونسلوں کو سونپ دیے گئے۔ حتیٰ کہ ایس ایس پی اور ڈپٹی کمشنر یعنی کہ ضلع کے طاقتور ترین افسروں کی سالانہ رپورٹ پر دستخط کا اختیار بھی ضلع ناظم کو مل گیا۔ یہیں سے اس بلدیاتی نظام کی مخالفت کی ابتدا ہوئی۔ بیوروکریسی (خصوصا پولیس اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ) نے یہ فیصلہ قبول نہیں کیا۔ سول بیوروکریسی اور بلدیاتی نظام والوں (یعنی خاکی اسٹیبلشمنٹ) میں جنگ چھڑ گئی۔ سول اسٹیبلشمنٹ نے اس بلدیاتی نظام کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا اپنے عہدے بڑھوائے اور طاقتور سے مزید طاقتور ہو گئے۔ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (جو اس وقت ڈی ایم جی کہلاتا تھا) اور پولیس انتہائی طاقتور بنتے چلے گئے ان کے ”نئے عہدے“ بڑھتے چلے گئے اور سول سروسز کی باقی تمام سروسز بہت پیچھے رہ گئیں۔ جنرل مشرف کا یہ نظام 10 سال چلا 2001ء سے 2011ء تک اس نظام کے پاس آئینی تحفظ موجود تھا لہٰذا 2008ء میں جنرل مشرف کی رخصتی کے بعد بھی 2011ء تک بے اختیار ہی صحیح مگر ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل موجود رہیں، مگر اس کے بعد پاکستان میں ”میثاق جمہوریت والوں“ کی حکومتیں آگئیں، جنہوں نے ایک دوسرے کو پانچ پانچ سال ”برداشت“ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لہٰذا پہلے پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لیگ(ن) نے پانچ، پانچ سال حکومت فرمائی۔ اس دوران جو بلدیاتی انتخابات ہوئے وہ انہی پارٹیوں نے ”اپنے اپنے علاقوں“ میں جیت لئے۔ لیکن سچ یہی ہے کہ ان جماعتوں کو کبھی بلدیاتی نظام پسند نہیں آیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ”طاقتور سیاسی اشرافیہ“ کا روپ دھارنے والے بلدیاتی نمائندے آج بلدیاتی انتخابات کرانے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں جو ناظمین، ڈپٹی میئر، میئر یا ضلع ناظم، تحصیل ناظم میدان میں آئیں گے وہ ان سے ان اربوں روپے کو خرچ کرنے کا اختیار چھین لیں گے جو انہیں ترقیاتی فنڈز کی شکل میں ملا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں ترقیاتی کام تحصیل اور ضلعی حکومتیں، میونسپل اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کرواتی ہیں۔ ہماری بدقسمتی کہ ہمارے انتہائی شریف نیک نام وزیراعظم محمد خان جونیجو نے جنرل ضیا الحق کی بنائی مسلم لیگ کے اراکین اسمبلی کو خوش کرنے کے لئے ترقیاتی فنڈز کا ایک ایسا لالی پاپ ان اراکین اسمبلی کو دیا کہ جسے وہ اب چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور ان کے چاروں ساتھی ممبران الیکشن کمیشن نے پنجاب میں دسمبر کے آخری ہفتے میں الیکشن کا جو فرمان جاری کیا ہے اس میں انہوں نے واضح کہا ہے کہ کے پی کے، سندھ اور بلوچستان میں جو بلدیاتی انتخابات انہوں نے کرائے وہاں بھی انہیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن سب سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا پنجاب میں ہوا جہاں مسلسل رکاوٹ ڈالی گئی۔ تین سال نو ماہ گزر گئے الیکشن نہیں کرائے گئے۔ پانچ مرتبہ قانون میں تبدیلی کی گئی اور اب چھٹی ترمیم کا کہا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تین بار حلقہ بندیاں کیں اور ایک بار انتخابی شیڈول کا اعلان بھی کیا۔ سکندر سلطان راجہ نے ایک جملہ کہا ہے کہ اگر ”کوئی“ بلدیاتی انتخابات نہیں چاہتا تو آئین میں ترمیم کر دے (یعنی آئین کی شق 140 اے (2) کو ختم کر دے) اور واضح کر دے کہ مقامی حکومتوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ سکندر سلطان راجہ نے ایک اور جملہ بھی بڑا ذو معنی کہا ہے کہ یہاں تو ایک وفاقی وزیر کہہ رہا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد کے انتخابات میں تاخیر الیکشن کمیشن پاکستان کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس بیان کے بعد وہ خوشی جو متوقع بلدیاتی انتخابات کا سن کے محسوس ہوئی تھی پتہ نہیں کہاں چلی گئی۔ شاید ہمارے نصیب میں ایسی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی ہیں جو آتی ہیں اور چلی بھی جاتی ہیں۔

