افغانستان سے بگرام ایئربیس واپس لینا چاہتے ہیں:ڈونلڈ ٹرمپ

بکنگھم شائر (الجزیرہ/نمائندہ خصوصی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مشرقِ وسطیٰ میں انسانی بحران ختم کرنے، اسرائیل-غزہ تنازع کے حل، اور یوکرین جنگ میں روسی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا بگرام ایئربیس واپس لینا چاہتا ہے۔

بکنگھم شائر کے چیکرز میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اور امریکا مل کر مشرقِ وسطیٰ میں امداد پہنچانے، یرغمالیوں کو رہا کرانے اور خطے کو امن کی طرف واپس لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیوٹن نے یوکرین جنگ میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا اور نیٹو کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جو امن کی خواہش سے متصادم ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نیٹو کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کر رہا ہے اور نیٹو نے دفاعی اخراجات کا ہدف 2 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پیوٹن نے مجھے واقعی مایوس کیا ہے‘‘ اور بتایا کہ امریکا نے سات جنگوں کو ختم کیا، مگر روس-یوکرین جنگ سب سے زیادہ مشکل ثابت ہوئی۔

اسرائیل اور غزہ کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس مسئلے پر بہت محنت کر رہا ہے اور یقین ہے کہ یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔ فلسطین کو تسلیم کرنے کے سوال پر برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ یہ امن منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے، تاہم ٹرمپ نے کہا کہ ’’اس نکتے پر میرا وزیراعظم سے اختلاف ہے۔‘‘

ٹرمپ نے افغانستان سے بگرام ایئربیس واپس لینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ یہ اس جگہ سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر ہے جہاں چین اپنے ایٹمی ہتھیار بناتا ہے۔‘‘

اپنا تبصرہ لکھیں