کابل (ایجنسیاں) افغانستان کی طالبان حکومت نے کشیدگی کے آغاز کے 24 گھنٹے مکمل ہونے سے قبل ہی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تنازع کے حل کیلئےبات چیت کو واحد راستہ قرار دے دیا۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان ماضی میں بھی امن کے قیام کے لیے پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ جاری لڑائی کے تناظر میں دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے اور معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کے دوران طالبان رجیم سے وابستہ 274 اہلکار اور خوارج ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں میں دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں اور اے پی سیز تباہ کیے گئے جبکہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہیں اور 18 چوکیاں پاکستان کے کنٹرول میں آچکی ہیں۔

