کابل(نمائندہ خصوصی،اے ایف پی)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جن کے بعدشہر کے مرکزی حصے میں کالا دھواں اٹھتا دیکھا گیا اور ایمبولینسیں موقع پر دوڑتی ہوئی پہنچ گئیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دھماکوں کے بعد طالبان سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ کر زمین پر بکھر گئے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ یہ کوئی دہشت گرد حملہ نہیں تھا بلکہ ایک آئل ٹینکر اور جنریٹر پھٹنے سے آگ بھڑکی، جس کے نتیجے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
دوسری جانب خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔ پاکستان اور افغانستانے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد آج ترجمان دفترِ خارجہ نے اعلان کیا کہ افغان طالبان کی درخواست پر عارضی سیز فائر پر اتفاق ہو گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق آج شام 6 بجے سے آئندہ 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی نافذ رہے گی تاکہ دونوں ممالک بات چیت کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کریں۔
خیال رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان سرحدی فورسز نے پاکستانی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی، جس کے جواب میں پاک فوج نے شدید کارروائی کی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق درجنوں افغان فوجی مارے گئے جبکہ عسکری گروہ پسپا ہو گئے۔ اسلام آباد نے کابل حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔

