افغانستان کا پاکستان پر فضائی حملوں کا الزام، اسلام آباد کا عسکری کارروائی کرنے کا اعلان

اسلام آباد/کابل/نئی دہلی(رائٹرز+ پجھووک نیوز)افغانستان کی طالبان حکومت نے جمعہ کے روز پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے افغان علاقے میں فضائی حملے کیے اور ممکنہ “نتائج” کی وارننگ دی، جبکہ اسلام آباد نے کہا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق جمعہ کو تیرہ افغان سرحد کے قریب تیرہ علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں مزید گیارہ پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے عسکریت پسند افغانستان سے کارروائی کرتے ہیں جبکہ کابل نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

طالبان انتظامیہ نے کابل میں جمعرات کی دیر رات اور مشرقی صوبہ پکتیکا میں تقریباً نصف شب کو پاکستانی فضائی حملوں کا الزام لگایا۔ افغانستان کے دفاعی وزارت کے بیان میں کہا گیا”یہ افغانستان اور پاکستان کی تاریخ میں ایک بے مثال، پرتشدد اور اشتعال انگیز کارروائی ہے۔ اگر ان اقدامات کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو اس کے نتائج پاکستانی فوج کی ذمہ داری ہوں گے۔”

پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ کابل کے فضائی حملے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے رہنما نور ولی محسود کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔ افغانستان کے دفاعی وزارت نے نور ولی محسود کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا، اور اپنے بیان کی جانب اشارہ کیا جو ان کا ذکر نہیں کرتا۔

ذرائع کے مطابق نور ولی محسود دی گئی جاسوسی کے باعث وہ محفوظ رہےاوربچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے. اس کے متوقع دونوں جانشین مارے گئےاور حملہ افغان حکومت کی مرضی سے ہوا.

علاوہ ازیں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کابل اور پکتیکا میں پاکستانی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی اور افغانستان کی علاقائی سالمیت پر حملہ ہے۔

کرزئی نے اپنی X (سابقہ ٹوئٹر) پوسٹ میں لکھا کہ “پاکستان کی افغانستان اور خطے کے حوالے سے پالیسیاں غیر ذمہ دارانہ ہیں اور ان کے منفی نتائج کو نظرانداز کیا گیا۔ آج پاکستان جو مسائل دیکھ رہا ہے، وہ انہی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔”

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو تشدد کے بجائے اپنے نقصان دہ اور غلط اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے، ہمسایوں کے حقوق اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے، اور افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر تعامل اختیار کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ کابل میں گزشتہ رات ایک دھماکہ بھی ہوا، جس کے بعد اسلامی امارت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کابل شہر میں دھماکے کی آواز سنی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ادھر مقامی ذرائع کے مطابق پکتیکا صوبے کے برمل ضلع میں پاکستانی بمباری کے نتیجے میں تین دکانیں جل گئیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اپنا تبصرہ لکھیں