افغانستان کو بتانا ہوگا کہ دہشتگردی اب ناقابل برداشت ہے: خواجہ آصف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان نے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کو اپنے ملک میں بسانے کے لیے 10 ارب روپے طلب کیے تھے، تاہم پاکستان کی جانب سے ان کی واپسی نہ ہونے کی ضمانت مانگنے پر افغان حکام نے انکار کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ “تین سال قبل میں افغانستان گیا تھا، اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور سینئر سفارتکار محمد صادق ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے افغان حکام کو کہا کہ آپ کے ملک سے ہمارے ہاں دہشت گردی ہو رہی ہے، ان 6 سے 7 ہزار افراد کو کنٹرول کریں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ افغان حکام نے کہا کہ اگر پاکستان 10 ارب روپے فراہم کرے تو وہ ان افراد کو مغربی افغانستان منتقل کر دیں گے۔ خواجہ آصف کے مطابق “ہم نے ان سے ضمانت مانگی کہ یہ لوگ واپس نہیں آئیں گے، مگر وہ اس کی گارنٹی دینے پر آمادہ نہیں ہوئے۔”

وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایک تجویز زیرِ غور ہے کہ دو روز کے اندر ایک اعلیٰ سطحی وفد کابل جا کر افغان حکمرانوں سے براہِ راست بات کرے اور انہیں باور کرائے کہ “یہ سلسلہ اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ جو افغان شہری پاکستان میں کئی دہائیوں سے مقیم ہیں، وہ یہاں کاروبار کرتے ہیں مگر پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ “یہ جس تھالی میں کھاتے ہیں، اسی میں چھید کرتے ہیں۔”

خواجہ آصف نے کہا کہ من حیث القوم ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا، اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو سخت جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ “دہشت گردوں کے لیے کسی قسم کا نرم گوشہ یا رعایت قابلِ برداشت نہیں۔”

وزیرِ دفاع نے کہا کہ جو عناصر دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں، انہیں بھی جوابدہ ہونا پڑے گا۔ “اس جدوجہد میں کولیٹرل ڈیمیج بھی ہو سکتا ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی نرمی ممکن نہیں۔”

آخر میں انہوں نے کہا کہ ملک کے لیے جان دینے والے شہداء قوم کے ہیرو ہیں۔ “جس طرح افواجِ پاکستان نے پاک بھارت جنگوں میں دفاع کیا، اسی طرح آج بھی اُن کی قربانیاں پاکستان کی عزت و وقار کا باعث ہیں۔”

اپنا تبصرہ لکھیں