افغان طالبان عبوری حکومت میں پاکستان‌مخالف لابی سرگرم ہے:دفترِ خارجہ

اسلام آباد (نامہ نگار) دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغان طالبان عبوری حکومت کے اندر ایک ایسی لابی سرگرم ہے جو پاکستان کے خلاف عزائم رکھتی ہے اور وہ ملک کی سرحدی سلامتی و مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان دوطرفہ اختلافات کے حل کیلئے مکالمے کا پابند ہے، تاہم افغانستان سے آنیوالی دہشت گردی کا مسئلہ سب سے پہلے حل ہونا ضروری ہے اور مسلح دہشت گردوں کو زبردستی سرحد پار دھکیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائیگی۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے مذاکرات کے تیسرے دور کا اختتام 7 نومبر 2025 کو استنبول میں ہوا، جس میں ترکی اور قطر نے بطور ثالث مخلصانہ کردار ادا کیا۔ پاکستان نے ثالثی کی کاوشوں کو سراہا مگر کہا کہ طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق عملی اقدامات دکھائی نہیں دیے۔

“ترجمان کے مطابق”
گزشتہ چار برسوں میں افغانستان سے پاکستان پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان نے تحمل اور مثبت سفارتی رویہ اپناتے ہوئے امن کے فروغ کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔

پاکستان کی بنیادی توقع یہ رہی کہ افغان حکومت اپنے علاقے کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے گی اور ٹی ٹی پی/فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے/فتنۃ الہندوستان جیسے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے گی، مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

افغان فریق بارہا غیر متعلقہ الزامات اور تاثر سازی کے ذریعے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ یہ بیانیہ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر اپنی ذمہ داریوں سے فرار کا باعث بنتا ہے۔

دفترِ خارجہ نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں پاکستان کی کارروائی واضح پیغام تھی کہ سرزمین و عوام کے تحفظ کیلئےکوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائیگی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی/فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے/فتنۃ الہندوستان کو ریاستِ پاکستان اور قوم کا دشمن قرار دیا جا چکا ہے اور جو بھی ان کی پناہ، مدد یا مالی معاونت کرے وہ پاکستان کے مفاد کا حامی نہیں سمجھا جائیگا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان امن اور سفارت کاری کا مضبوط حامی ہے اور طاقت کو آخری حل سمجھتا ہے، اسی جذبے کے تحت ترکی و قطر کی ثالثی پر پاکستان نے مذاکرات کی پیشکش کی۔

پہلے دور میں دوحہ میں کچھ اصولوں پر اتفاق ہوا اور عارضی جنگ بندی پر رضامندی دی گئی مگر نفاذ کے طریقہ کار میں افغان فریق کی عدم دلچسپی اور ٹھوس عملدرآمد نہ ہونے کے باعث معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔پاکستان نے بارہا طالبان حکومت سے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا مگر طالبان بارہا انکار کرتے رہے؛ یہ معاملہ اب صلاحیت سے زیادہ نیت کا مسئلہ بن چکا ہے۔

دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان ہر اُس شہری کو واپس لینے کیلئے تیار ہے جو افغانستان میں مقیم ہے، بشرطیکہ وہ باقاعدہ طورخم یا چمن کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے حوالہ کیے جائیں نہ کہ جدید ہتھیاروں سے لیس کر جبراً سرحد پار دھکیلا جائے۔

آخر میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کسی دہشت گرد تنظیم خواہ وہ ٹی ٹی پی/فتنۃ الخوارج یا بی ایل اے/فتنۃ الہندوستان ہوکے ساتھ مذاکرات نہیں کریگا۔ پاکستان امن و استحکام کے حصول کیلئے پرعزم ہے، مگر اس کا بنیادی نقطۂ نظر اپنی سرحدوں، عوام اور قومی مفادات کا تحفظ ہے، اور اس مقصد کیلئےہر ضروری اقدام کیا جائیگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں