ملتان (نامہ نگار) پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر اور سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دن پاکستان کے روشن اور شمولیتی تشخص کی علامت ہے اور قائداعظم محمد علی جناح کے اس تاریخی وعدے کی یاد دہانی بھی ہے جو انہوں نے 11 اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کیا تھا، کہ نئی ریاست میں مذہب، عقیدہ اور مسلک کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جائے گا اور تمام شہری یکساں حقوق اور مذہبی آزادی سے مستفید ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق مخدوم سید احمد محمود نے کہا کہ اسی عزم پر عمل کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 11 اگست 2009 کو باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ ہر سال یہ دن اقلیتوں کے قومی دن کے طور پر منایا جائے گا، تاکہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اقلیتی برادری کے لازوال کردار، قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اقلیتوں کے آئینی، قانونی اور سماجی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں، جن میں سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ، اقلیتی کمیشن کا قیام، اقلیتی عیدوں اور تقریبات کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنا، اور آئین میں مذہبی آزادی کی ضمانت شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اقلیتی برادری کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے مؤثر قانون سازی اور اصلاحات کی گئیں جن سے مساوات، ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا مضبوط ہوئی۔
مخدوم سید احمد محمود نے کہا کہ اقلیتوں کا کردار صرف سماجی اور معاشی ترقی تک محدود نہیں بلکہ وہ پاکستان کی مسلح افواج سمیت دفاعِ وطن کے محاذوں پر بھی پیش پیش ہیں۔ تعلیمی، سائنسی، طبی، کھیل اور فنون لطیفہ سمیت ہر شعبۂ زندگی میں ان کی خدمات پاکستان کے وقار اور شناخت کو بلند کرتی ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی، صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں، قائداعظم کے وژن کے مطابق ایک ایسے پاکستان کے قیام کے لیے پرعزم ہے جہاں ہر شہری — چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، عقیدے یا قومیت سے ہو — یکساں حقوق، مساوی مواقع اور مکمل مذہبی آزادی سے لطف اندوز ہو۔

