اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سےمعاونِ خصوصی طارق فاطمی کی ملاقات

نیویارک (نمائندہ خصوصی)اقوامِ متحدہ میں وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی/ وزیرِ مملکت سید طارق فاطمی نےنیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فیلمن یانگ سے ملاقات کی۔

معاونِ خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ سال منظور کیا گیا “پیکٹ فار دی فیوچر” (مستقبل کا معاہدہ) عالمی تعاون کی بحالی میں معاون ثابت ہوگا۔ اس حوالے سے، انہوں نے ترقی، مالیاتی قرضوں اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات جیسے اہم مسائل پر پاکستان کی دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔

انہوں نے جنرل اسمبلی کے صدر کو سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان کی ترجیحات سے آگاہ کیا۔ مزید برآں، معاونِ خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک زیادہ جمہوری، نمائندہ، جوابدہ اور شفاف سلامتی کونسل کی حمایت کرتا ہے، جسے اتفاقِ رائے اور وسیع البنیاد عمل کے ذریعے تشکیل دیا جائے، جو اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک کی وسیع ترین حمایت حاصل کرے۔

اس ضمن میں، انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان کا ماننا ہے کہ “یونائٹنگ فار کنسینس” (UfC) گروپ کی تجویز، جس کے تحت مساوی جغرافیائی نمائندگی کے ساتھ مزید غیر مستقل اراکین کا اضافہ کیا جائے، جو انتخابی عمل کے ذریعے جوابدہ ہوں، سب سے بہتر آپشن ہے۔

معاونِ خصوصی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کو بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھنے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

معاونِ خصوصی نے جنرل اسمبلی کے صدر کو آگاہ کیا کہ پوری پاکستانی قوم اسرائیل کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف اندھا دھند اور غیر متناسب طاقت کے استعمال پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے اور پاکستان، جنگ بندی معاہدے کے تمام مراحل پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام صرف ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر نے معاونِ خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور اقوامِ متحدہ کے کام میں پاکستان کی حمایت کو سراہا۔

اپنا تبصرہ لکھیں