ایڈمونٹن، البرٹا(ایجنسیاں)کینیڈا میں ایک سکھ وکیل کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں البرٹا صوبے میں پیشہ ور افراد کے لیے برطانوی بادشاہ سے وفاداری کے حلف کو لازمی قرار دینے والا صدی پرانا قانون ختم کر دیا گیا ہے۔
سکھ وکیل پربھجوت سنگھ ویرنگ نے عدالت میں چیلنج کیا تھا کہ بادشاہ چارلس کے نام پر حلف اٹھانا ان کے سکھ مذہبی عقیدے کے خلاف ہے، کیونکہ وہ اپنے گرو، گرو گوبند سنگھ سے بڑھ کر کسی کو نہیں مان سکتے۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ شرط انہیں مذہب اور پیشے میں سے ایک کے انتخاب پر مجبور کرتی ہے، جو کینیڈین آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
ابتدائی طور پر ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم 16 دسمبر 2025ء کو البرٹا کورٹ آف اپیل نے ویرنگ کے حق میں فیصلہ سنایا اور صوبے کو یہ شرط ختم کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی شخص کو پیشہ اختیار کرنے یا عہدہ سنبھالنے کے لیے بادشاہ سے وفاداری کا حلف اٹھانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کینیڈین عدالت کے اس فیصلے کو مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

