البرٹا:طلبہ کا اساتذہ کے حق میں احتجاج، 6 اکتوبر کی ہڑتال کے خدشات بڑھ گئے

ایڈمنٹن/ریڈ ڈیئر (نامہ نگار+گلوبل نیوز، آر ڈی نیوز ناؤ، نیشنل نیوز واچ)البرٹا میں اساتذہ کی ممکنہ ہڑتال کے خدشات کے درمیان آج درجنوں طلبہ نے اپنی کلاسیں چھوڑ کر صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرے میں شریک طلبہ نے پلے کارڈز اٹھائے اور نعرے لگائے، تاکہ صوبے کے تقریباً 51 ہزار اساتذہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے جو بہتر تنخواہوں اور چھوٹی کلاسوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

احتجاج کی منتظم، نیلا احمد زائی نے بتایا کہ ان کی کلاسوں میں 37 سے 42 طلبہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اساتذہ مسلسل دباؤ میں رہتے ہیں اور ہر طالب علم کو مناسب توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور اساتذہ کے لیے بہتر تعلیمی اور پیشہ ورانہ حالات فراہم کیے جائیں۔

اس دوران، البرٹا حکومت نے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ 6 اکتوبر کی مقررہ ہڑتال سے قبل نیا اجتماعی معاہدہ طے پایا جا سکے۔ حکومت کی پیشکش میں مزید ہزاروں اساتذہ کی بھرتی اور نئی اسکولوں کی تعمیر شامل ہے تاکہ کلاسوں میں زیادہ طلبہ کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔

احتجاج نہ صرف صوبائی دارالحکومت اوٹاوا بلکہ دیگر شہروں میں بھی ہوا۔ ریڈ ڈیئر میں 40 سے زائد طلبہ نے شہر کے ہال کے سامنے احتجاج کیا اور ایڈمنٹن میں ہونے والے مظاہرے سے متاثر ہو کر وہاں بھی طلبہ شریک ہوئے۔ ہنٹنگ ہلز ہائی اسکول کے دسویں جماعت کے طالب علم اسکار لیبائرن نے بتایا کہ ان کی کلاس میں 35 طلبہ ہیں اور نئی استاد کیلئےاتنی بڑی کلاس سنبھالنا مشکل ہے۔

طالبہ مظاہرین اور اساتذہ دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اساتذہ کو مناسب وسائل اور مدد فراہم کی جا سکے اور طلبہ کی تعلیم پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

اپنا تبصرہ لکھیں