اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)الیکشنز کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ البرٹا کے حلقہ بیٹل ریور–کروفُوٹ میں اگست میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ووٹرز کو رائٹ اِن (Write-in) بیلٹ استعمال کرنا ہوں گے، کیونکہ اس نشست پر 200 سے زائد امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
یہ فیصلہ بیلٹ پیپرز کو ایک میٹر سے زیادہ لمبا ہونے سے بچانےکیلئےکیا گیا ہے۔
🔹 الیکشنز کینیڈا کا باضابطہ بیان”روایتی بیلٹ پر امیدواروں کے نام اور ان کیساتھ خالی دائرہ ہوتا ہے جسے ووٹر نشان زد کرتے ہیں مگر اس حلقے میں اب خاص بیلٹ استعمال کیا جائیگا، جس پر ووٹر پسندیدہ امیدوار خود لکھے گا۔”
🔹 رہنمائی برائے ووٹرز:ووٹرز کو تمام امیدواروں کی فہرست پولنگ اسٹیشنز پر دستیاب ہوگی۔ووٹر اگر امیدوار کا نام غلط بھی لکھیں لیکن شناخت ممکن ہو، تب بھی ووٹ قابلِ قبول ہوگا۔
رائٹ اِن بیلٹس عام طور پر ان ووٹروں کیلئے استعمال ہوتے ہیں جو ایڈوانس یا میل اِن ووٹنگ کرتے ہیں۔
مگر ایمرجنسی یا غیرمعمولی حالات میں الیکشنز کینیڈا کا سربراہ قانوناً عارضی تبدیلی کر سکتا ہے، جیسا کہ اس مرتبہ کیا گیا۔
200 سے زائد امیدوار وں کی منفرد صورتحال Longest Ballot Committee نامی تنظیم کے احتجاج کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جو کینیڈا میں انتخابی نظام میں اصلاحات کی خواہاں ہے۔تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ اگر 200 امیدوار بیلٹ پر آگئے تو وہ اپنا مقصد حاصل کر لیں گے اور 214 افراد نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق اسی گروپ سے ہے۔
یہ گروہ چاہتا ہے کہ انتخابی اصلاحات کیلئےایک شہری اسمبلی تشکیل دی جائے کیونکہ ان کے مطابق موجودہ پارلیمانی جماعتیں اصلاحات میں سنجیدہ نہیں۔
کمیٹی کے ترجمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہاہے “لگتا ہے کہ الیکشنز کینیڈا نے نہایت معقول حل نکالا ہے۔”
یہ ضمنی انتخاب اس وقت ممکن ہوا جب رکنِ پارلیمنٹ ڈیمین کوریک نے نشست خالی کی تاکہ کنزرویٹو لیڈر پئیر پولیئرو کو ایوان میں واپس لایا جا سکے۔ پولیئرو اپریل کے عام انتخابات میں اپنی پرانی نشست کارلٹن سے شکست کھا چکے تھے۔
اس سے قبل لمبے بیلٹس کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی میں تاخیر اور ووٹروں کی الجھن رپورٹ ہو چکی ہے۔اگرچہ رائٹ اِن بیلٹ آسانی فراہم کرے گاالیکشنز کینیڈا نے خبردار کیا ہے کہ تاخیر اب بھی ممکن ہے۔الیکشنز کینیڈا پہلے بھی بڑے بیلٹس سے نمٹنے کیلئے زیادہ عملہ اور ابتدائی گنتی جیسے اقدامات کر چکا ہے۔

