ایڈمنٹن(نمائندہ خصوصی)البرٹا کی ممکنہ علیحدگی سے متعلق ریفرنڈم کے سوال پر صوبائی حکومت اور چیف الیکشن آفیسر کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ پریمیئر ڈینیئل اسمتھ اور صوبائی وزیرِ انصاف میکی ایمری کی جانب سے ریفرنڈم کے سوال کی منظوری کیلئے دباؤ کے بعد چیف الیکشن آفیسر گورڈن میک کلور نے آئینی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملہ عدالت کے سپرد کر دیا ہے۔
مجوزہ ریفرنڈم کا سوال کچھ یوں ہے”کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ صوبہ البرٹا ایک خودمختار ملک بن جائے اور کینیڈا کا حصہ نہ رہے؟”اس سوال کی منظوری کے بعدعلیحدگی کے حامی گروہ “البرٹا پراسپرٹی پروجیکٹ” کو چار ماہ کے اندر 177000دستخط اکٹھے کرنے ہونگے تاکہ یہ معاملہ بیلٹ پر لایا جا سکے۔
چیف الیکشن آفیسر میک کلور نےجاری بیان میں کہا کہ ان کے غیرجانبدار اور غیرسیاسی عہدے کی نوعیت انہیں پابند بناتی ہے کہ وہ قانون کے تحت یہ طے کریں کہ آیا سوال آئینی تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوال کے “سنگین اور دور رس اثرات” کی وجہ سے عدالت کی رائے لینا ضروری ہے۔
پریمیئر اسمتھ اور وزیر ایمری نے سوشل میڈیا پر موقف اپنایا کہ ریفرنڈم کے عمل کو “غیر ضروری عدالتی مداخلت” اور “سرخ فیتے” کے ذریعے روکا نہیں جانا چاہیے۔ ایمری کا کہنا تھا کہ چونکہ ریفرنڈم پر حتمی عملدرآمد کا فیصلہ حکومت کو کرنا ہے، اسلئےآئینی جانچ بعد میں ہونی چاہیے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ “کینیڈا کے اندر متحدہ البرٹا کی خودمختاری” پر یقین رکھتی ہیں۔
دوسری جانب این ڈی پی کی ڈپٹی لیڈر راکھی پنچولی نے کہا کہ یو سی پی حکومت اپنی ہی قانون سازی کو نظرانداز کر کے پارٹی کے اندر موجود علیحدگی پسند عناصر کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا”یہ اقدام ڈینیئل اسمتھ کی آمرانہ روش، بدعنوانی اور نااہلی کا ثبوت ہے۔”
البرٹا پراسپرٹی پروجیکٹ کے وکیل جیفری راتھ نے چیف الیکشن آفیسر، این ڈی پی اور حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ اسمتھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ “سوال پوچھنے سے آئین کی خلاف ورزی کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ عدالت لے جانے کے لائق نہیں مگر ہم عدالت ہی جائیں گے۔”
“سِٹیزن انیشی ایٹو ایکٹ” کے سیکشن 2(4) کے مطابق، کسی بھی ریفرنڈم کے سوال کو آئینِ 1982 کے سیکشنز 1 سے 35.1 سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔ میک کلور نے عدالت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ آیا سوال شہری آزادی، آئینی حقوق، اور مقامی و معاہداتی حقوق کے منافی تو نہیں۔
یاد رہے کہ جون میں، چیف الیکشن آفیسر نے ایک متبادل سوال کی منظوری دی تھی جس میں تجویز دی گئی تھی کہ “البرٹا کبھی کینیڈا سے علیحدہ نہ ہو” — یہ اس وقت پیش کیا گیا تھا جب قانون میں دستخطوں کی حد زیادہ تھی۔
ایمری کا کہنا ہے کہ حالیہ قانونی ترامیم اس لیے کی گئی تھیں تاکہ عوامی مشاورت کے عمل کو زیادہ وسیع بنایا جا سکے، لیکن میک کلور کا عدالت سے رجوع کرنا اس نیت کے خلاف ہے۔عدالت اب اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا علیحدگی پر مبنی ریفرنڈم کا سوال آئینی حدود کے اندر آتا ہے یا نہیں۔ اس پیش رفت سے صوبے میں علیحدگی پسند تحریک اور وفاقی اتحاد کے مستقبل پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

