اللہ کی مدد ضرور آتی ہے، لیکن اطاعت و شجاعت لازم ہیں!

آج لکھنا تواپنے ساتھ پیش آنے والے دو مختلف حادثات کے حوالے سے تھا کہ لاہور میں ٹریفک کی بدنظمی اور گاڑی چلانے والوں کا موبائل پر سوشل میڈیا کے جھوٹ سچ دیکھنے سے ہونے والے حادثات پر،لیکن وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی علماء کرام کے ساتھ گفتگو میں بھارت کے ساتھ معرکہ میں ہماری مسلح افواج کی کامیابیوں اور بھارتی سورماؤں کی خفت اور شکست بھی زیر بحث آئی اور اس گفتگو کا جو حصہ نشر اور شائع ہوا، اس نے توجہ ہٹا دی۔ محسن نقوی نے اللہ کی مدد کا ذکر کیا تو میری یادوں کے دریچے بھی کھل گئے اورفوراًہی ذہن کی سکرین پر 1965ء ستمبر کی پاک بھارت جنگ کے واقعات کی فلم چلنے لگی۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ میری رسائی سرحدی جنگی علاقے اور 3بلوچ رجمنٹ تک بیٹری انچارج میجر اسماعیل کے حوالے اور نوٹ سے ہوئی کہ انہوں نے مجھے ممنوعہ علاقے میں آنے پر جلو موڑ پربرسرپیکار رہنے والی رجمنٹ 3بلوچ بٹالین کے حوالے کر دیا تھا اور یہ رات کبڑے کو ایسی راس آئی کہ میں 3بلوچ ہی کا ہو کر رہ گیا۔ آج بھی اس وقت کے کرنل کمانڈنٹ (میجر جنرل ر) تجمل ملک، سٹاف افسر خالد انور (لیفٹیننٹ جنرل ر)،سیکنڈ ان کمانڈ نفیس انصاری، میجر انور شاہ، میجر نواز اور کیپٹن چیمہ یاد آتے ہیں، ان میں سے اکثر اللہ کے حضور حاضرہو چکے لیکن میرے تو دل میں بستے ہیں۔

آج تو ذکر مقصود ہے اللہ کی مدد کا جس کا ذکر محسن نقوی نے کیا اور مثال دی، میں اس سلسلے میں 65ء ستمبر کے حوالے سے توہمات اور اللہ کی حقیقی مدد کا ذکر کروں گا کہ رب عظیم بھی اس کی مدد فرماتے ہیں جو اسی کے احکام کے مطابق سرفروشی کی داستانیں رقم کرتے ہیں۔

قارئین! ستمبر 1965ء کی سترہ روزہ جنگ کے حوالے سے پاک فوج کی رانی توپ کا ذکر بہت ہوا ہے۔ یہ توپ دور مار تھی اور شالیمارباغ کے آگے کوٹلی پیر عبدالرحمن کے نواح میں نصب کی گئی تھی۔ اس توپ کی شہرت اور آواز دور دور تک تھی کہ اس سے داغے جانے والے گولوں نے بھارتی فوج کو بہت نقصان پہنچایا جو بی آر بی نہرکے اس پار آ چکی تھی اور اسے وہیں روک لیا گیا تھا، اب میں اس حوالے سے اللہ کی مدد کا ذکر کرتا ہوں،جو مجھے خود انہی جوانوں سے معلوم ہوا جو دفاعی فرائض ادا کررہے تھے، بتایا گیا کہ دشمن پر کاری وار کرنے والی اس توپ کے انچارج میجر اسماعیل کو اچانک محسوس ہوا کہ توپ کے گولے کم رہ گئے ہیں اور راولپنڈی سے آنے والی کھیپ میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس وقت ہنگامی صورت حال میں فیصلہ کیا گیا کہ ایکسپائر ہونے کی تاریخ کے باعث جو گولے محفوظ کئے گئے تھے وہ لائے جائیں یہ لائے گئے۔ اب اللہ کی مد دیہ ہے کہ جتنے بھی گولے آئے، ان کو احتیاط سے چلایا گیا تو سب کارآمد ثابت ہوئے۔ اسی حوالے سے دوسری مدد ربی یہ ہے کہ جو ٹرین ان گولوں سمیت دوسرا فوجی اسلحہ لے کر آ رہی تھی اس پر بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے حملہ کر دیا یہ حملہ کالا شاہ کاکوکے قریب کیا گیا تاہم اللہ نے کرم کیا اور فائر کیا جانے والا بارود اوربم ریلوے لائن اور ٹرین سے پرے کھیتوں میں گر کر ضائع ہوئے، ٹرین بحفاظت میدان جنگ کے لئے اسلحہ لے کر کینٹ پہنچ گئی۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی عرض کروں کہ تب توہم پرستی بھی شروع ہو گئی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ بھارتی بموں کو سبز پوش کیچ کرکے لے جاتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ کا کرم ہوتا رہا ایک مثال یہ بھی ہے کہ بھارتی ایرفورس کے ایک طیارے نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر حملہ کیا اگر طیارے کے گرائے بم مقررہ نشانے پر گرتے تو ریلوے سٹیشن کی عمارت کو بہت نقصان ہوتا اورٹرینوں کی آمدورفت ممکن نہ رہتی بلکہ یہ اللہ کی مہربانی تھی کہ بھارتی پائلٹ کی طرف سے گرائے جانے والا بم دوموریہ پل کے قریب ایک کونے پر لگا اور زیادہ نقصان نہ کر سکا، اسی طرح جو طیارے لاہور پر حملہ کرنے آئے ان کو ہمارے ہیروز نے فضاء ہی میں جا لیا اور لاہوریوں نے شہر پر ہونے والی ڈاگ فائٹ کا نظارہ کیا،بھارتی طیارے مار گرائے گئے یاکوئی بچ کر بھاگ گیا، البتہ موچی دروازہ کے مکان کی چھت پر یہ لڑائی دیکھنے والا ایک نوجوان کسی طیارے کی بھٹکی گولی لگنے سے شہید ہو گیا۔ اس کے سوا شہر کا کوئی نقصان نہ ہوا۔

ستمبر1963ء ہی جنگ کے ایک بڑے معجزے کا ذکر کئے بغیر بات مکمل نہ ہو گی وہ یہ کہ وہ دور آج کی حساس، ڈیجٹیل قسم کی جنگ کا نہیں تھا کہ جس میں میزائل اور طیارے مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، تب آرمرڈ ڈویژن کی بڑی اہمیت ہوتی تھی اور یہ ٹینکوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ ستمبر کی لڑائی میں مبینہ طور پر ہمارے سالاروں کی فکر مندی یہ تھی کہ بھارتی آرمرڈ ڈویژن کا سراغ نہیں مل رہا تھا، ایسے میں غیب سے مدد آئی۔ ہمارے ایک کمانڈو مجاہد مقبوضہ کشمیر میں تھے۔ ان کو بعض اہم معلومات حاصل ہوئیں تو وہ کنٹرول لائن کی طرف روانہ ہوئے،پیدل تھے۔ سواری کی ضرورت محسوس ہوئی، ان کو ایک بھارتی موٹرسائیکل جاتی نظر آئی۔ ضرورت کے تحت انہوں نے اسے چھاپ لیا، موٹر سائیکل قبضہ میں کرلینے کے بعد جب متذکرہ شکار کا تھیلا دیکھا گیا تو اس میں بہت کچھ تھا، احساس ہوا کہ وہ فوجی میسینجر تھا اسی تھیلے میں ہمارے مجاہدکو بھارتی آرمرڈ ڈویژن کا نقشہ بھی نظر آ گیا، نوجوان نے رابطہ کرکے خود کو جلد بلوانے کا پیغام دیا تو اسے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے جی ایچ کیو لایا گیا، وہاں نقشے پر غور کیا گیا تو حیرت ہوئی کہ بھارتی آرمرڈ سامبا کی پہاڑیوں کے راستے سیالکوٹ پر حملہ کرنے کیلئے رواں تھا،اس پر ہنگامی صورت حال پیدا ہو گئی اور ہنگامی طور پر مختلف محاذوں سے ٹینک سیالکوٹ پہنچانا شروع کئے گئے اور تمام تر کوشش کے باوجود بھارتی ایڈوانس کوچونڈہ کے مقام پر روکا گیا، جہاں وہ معرکہ ہوا جو ہماری فوجی تاریخ میں رقم ہو گیا، ہماری مسلح افواج اور جوانوں کی بیش بہا جرائت و ہمت اور قربانی نے چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا،اس لڑائی کے حوالے سے بھی کئی ماوراء عقل کہانیاں پیش کی گئیں حالانکہ حقیقت میں ہمارے بہادروں کی حکمت عملی، جانفروشی اور مہارت نے یہ ممکن بنا دیا کہ بڑھتے دشمن کو چونڈہ ہی میں برباد کرکے اس کے برے ارادوں پر خاک ڈالی جائے، یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ جو دشمن جی ٹی روڈ تک پہنچنے کے ارادے سے آیا اسے پار ہی روک لیا گیا اور بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا۔

تو قارئین! اللہ تعالیٰ کی شان والا تبار اپنے ان بندوں کی یقینی مدد کرتی ہے جو اسی کی ذات اور نام پر میدان میں اترتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کوتاہیوں کے مسلسل مرتکب ہوں تو بھی اللہ کی مدد آئے گی ایسا ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مد دکرتے ہیں جو اس کے نام پر خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں، محسن نقوی کا کہنا بجا میں خود بھی اسی یقین کا حامل ہوں کہ جب آپ کے اندر استحکام اور جذبہ صادق ہو تو اللہ تعالیٰ یقینا مدد فرماتا ہے، لیکن ہمیں اسے مستقل طور پر یقین میں نہیں لانا چاہیے اور اس سے گریز کی ضرورت ہے کہ جب ہم احکام الٰہی سے روگردانی کریں گے تو وہ بھی ایسی غیبی مدد نہیں کرے گا اس کا اندازہ اسرائیل کی جسامت اور اپنے مسلمان بھائیوں کی تعداد سے لگا لیں،اسرائیل کے ظلم و ستم کاباعث بھی یہ ہے کہ ہم مسلمان کوتاہیوں کے مرتکب ہیں ہمیں واپس اس کی طرف رجوع اور عصیاں سے درگزر اور رحم کی فریاد کرنا ہوگی اور خود کو اہل بھی ثابت کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں