واشنگٹن (نمائندہ خصوصی/ایجنسیاں)سیکریٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نویم نے کہا ہے کہ امریکا اپنے سفری پابندی پروگرام میں مزید ممالک کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفر کی پابندی کی فہرست میں ممالک کی تعداد 32 تک بڑھانے پر غور کر رہی ہے، تاہم مخصوص ممالک کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
جون میں صدر ٹرمپ نے ایک فرمان کے تحت 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی اور 7 دیگر ممالک کے شہریوں کے داخلے محدود کیے تھے، جس کا مقصد غیر ملکی دہشت گردوں اور سلامتی کے خطرات سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ یہ پابندیاں امیگرنٹس اور نان امیگرنٹس، بشمول سیاح، طلبہ اور کاروباری افراد پر لاگو ہیں۔
کرسٹی نویم کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک میں مستحکم حکومت موجود نہ ہو اور وہ اپنے شہریوں کی شناخت اور تصدیق کرنے کے قابل نہ ہو تو امریکا ان ممالک کے شہریوں کو داخلے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ 36 اضافی ممالک پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے، جس کا ذکر محکمہ خارجہ کی داخلی دستاویز میں بھی کیا گیا تھا۔
مزید کہا گیا کہ فہرست میں توسیع کے فیصلے سے اُن اقدامات میں مزید شدت آئے گی جو نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں کی فائرنگ کے واقعے کے بعد کیے گئے، جس کے الزام میں ایک افغان شہری ملوث تھا جو 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے فائرنگ کے واقعے کے بعد کہا تھا کہ وہ تمام ’تیسری دنیا کے ممالک‘ سے مہاجرین کی آمد مستقل طور پر روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔
اس سے قبل ہوم لینڈ سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پیش رو امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں منظور شدہ پناہ گزین کیسز اور 19 ممالک کے شہریوں کو دی گئی گرین کارڈز کی وسیع پیمانے پر نظرثانی کا حکم دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد امیگریشن پر سخت اقدامات کو ترجیح دی ہے۔ وفاقی اہلکاروں کی بڑے شہروں میں تعیناتی اور امریکا۔میکسیکو سرحد پر پناہ کے خواہشمندوں کی راہ میں رکاوٹیں بھی اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔
ان کی انتظامیہ اکثر ڈی پورٹیشن اقدامات کو سامنے لاتی رہی ہے تاہم قانونی امیگریشن کے نظام میں تبدیلی پر ابھی کم توجہ دی گئی ہے۔

