امریکا :موٹاپے اور ذیابیطس کے مریضوں کے ویزے مسترد ہونے کا امکان

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکی نیوز آؤٹ لیٹ کے ایف ایف ہیلتھ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکا میں مستقل رہائش کے خواہشمند ایسے غیر ملکی درخواست دہندگان جو ذیابیطس یا موٹاپے کا شکار ہیں، ان کے ویزے منسوخ یا مسترد کیے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

یہ انکشاف جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی ہدایات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

“محکمہ خارجہ کی نئی ہدایات”
کے ایف ایف کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں اور قونصلیٹ دفاتر کو ایک سرکلر جاری کیا ہے، جس میں ویزا افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے درخواست دہندگان کی صحت کا بغور جائزہ لیں جو اپنی جسمانی حالت، عمر یا بیماریوں کے باعث مستقبل میں “پبلک چارج” یعنی امریکی وسائل پر ممکنہ بوجھ بن سکتے ہیں۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کچھ طبی مسائل — جیسے کہ دل اور سانس کی بیماریاں،کینسر،ذیابیطس،میٹابولک امراض، اعصابی بیماریاں اور ذہنی صحت کے مسائل ایسے ہیں جن کے علاج پر سینکڑوں سے ہزاروں ڈالرز تک کے اخراجات آسکتے ہیں، اس لیے ان درخواست دہندگان کے کیسز میں احتیاط برتی جائے۔

“موٹاپے سے متعلق خصوصی ہدایت”
رپورٹ کے مطابق، ویزا افسران کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موٹاپے کے شکار درخواست دہندگان کی صحت کا تفصیلی جائزہ لیں، کیونکہ ایسے افراد میں دمہ،نیند کے دوران سانس رکنے (Sleep Apnea)اور بلند فشار خون (High Blood Pressure)جیسے امراض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ان وجوہات کی بنیاد پر یہ افراد طویل مدتی اور مہنگے علاج کے متقاضی ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کی اہلیت جانچتے وقت دیکھا جائے کہ آیا وہ اپنے علاج کے اخراجات خود برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

“خاندان کی صحت بھی زیرِ غور”
کے ایف ایف نے مزید بتایا کہ نئی ہدایات کے تحت ویزا افسران کو درخواست دہندہ کے خاندانی حالات اور اہلِ خانہ کی صحت کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے — خصوصاً بچوں اور عمر رسیدہ والدین کی صحت کو مدنظر رکھا جائے۔

“محکمہ خارجہ کا موقف”
امریکی محکمہ خارجہ کے پرنسپل ڈپٹی اسپوکس پرسن ٹومی پگوٹ نے کہا کہ”یہ کوئی راز نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی عوام کے مفاد کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ اس میں وہ پالیسیاں بھی شامل ہیں جو یقینی بناتی ہیں کہ ہمارا امیگریشن سسٹم امریکی ٹیکس دہندگان پر بوجھ نہ بنے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ویزا کے اجرا کا فیصلہ ہمیشہ افسر کے صوابدیدی اختیار پر ہوتا ہے۔ کسی درخواست دہندہ کو صرف کسی مخصوص طبی حالت کی بنیاد پر مسترد کرنے کی ہدایت نہیں دی گئی، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ آیا وہ شخص اپنا علاج خود کروا سکتا ہے یا نہیں، اور اس کا مجموعی اثر امریکی نظام پر کیا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں