واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکا میں صرف تین سال کی عمر میں لاپتہ ہونے والی بچی 42 سال بعد زندہ حالت میں مل گئی، جسے اپنی پوری زندگی اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ وہ اغوا کی گئی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق مشل میری نیوٹن کو اپریل 1983 میں ریاست کینٹکی کے شہر لوئس وِل سے مبینہ طور پر ان کی اپنی والدہ ڈیبرا نیوٹن اغوا کرکے لے گئی تھیں۔ مشل نے اپنی زندگی ایک مختلف نام کے تحت گزاری اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ لاپتہ بچوں کے ڈیٹا بیس میں درج ہیں جبکہ ان کی والدہ ایک وقت میں ایف بی آئی کی مطلوبہ فہرست میں بھی شامل رہیں۔
پولیس کے مطابق مشل کے والد جوزف نیوٹن کو بیٹی کے اغوا کے بعد 1984 اور 1985 کے دوران چند فون کالز موصول ہوئیں، تاہم اس کے بعد ماں اور بیٹی دونوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ڈیبرا نیوٹن پر کسٹوڈیل انٹرفیرنس کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم کیس 2000 میں بند کر دیا گیا۔
2016 میں خاندان کے ایک فرد کی درخواست پر تحقیقات دوبارہ شروع کی گئیں اور 2017 میں ڈیبرا نیوٹن پر دوبارہ الزامات عائد کیے گئے۔ کرائم اسٹاپر کے ذریعے اطلاع ملنے پر پولیس نے 24 نومبر کو فلوریڈا میں کارروائی کرتے ہوئے ڈیبرا کو گرفتار کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس موقع پر مشل کو بتایا گیا کہ وہ ایک لاپتہ بچی ہیں اور ان کا اصل نام مشل میری نیوٹن ہے۔ بعد ازاں مشل کی اپنے والد جوزف نیوٹن سے 42 سال بعد ملاقات کرائی گئی۔حکام کے مطابق ڈیبرا نیوٹن پر سنگین الزامات عائد ہیں، تاہم انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے جبکہ کیس کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

