واشنگٹن(رائٹرز، سی بی ایس، اے پی نیوز، گارڈین)امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کو گرفتار کرکے گرفتار ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے اور ان پر نیو یارک میں منشیات، دہشت گردی اور ہتھیاروں کے سلسلے میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس غیر معمولی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ امریکا نے وینزویلا کیخلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی (airstrikes) کی ہے اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔
امریکی اٹارنی جنرل پم بانڈی نے بتایا ہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ پر نیو یارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے، جس میں ’نارکو ٹیررازم سازش‘، ’کوکین درآمد کرنے کی سازش‘ اور ’مشین گنز و تباہ کن ہتھیار رکھنے‘ جیسے الزامات شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مادورو امریکا کے خلاف جرم، منشیات اسمگلنگ اور اسلحے کی خلاف ورزی میں ملوث رہا ہے، اور وہ جلد امریکی عدالتوں میں انصاف کا سامنا کریں گے۔
یہ کارروائی امریکا کی طرف سے وینزویلا میں سیاسی دباؤ کی سب سے بڑی مداخلت تصور کی جا رہی ہے، جس میں کراکس سمیت متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے گئے اور صدر مادورو کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
وینزویلا حکومت نے اس کارروائی کو غیر قانونی فوجی جارحیت اور ریاستی حاکمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا ہے کہ حکومت کو مادورو اور ان کی اہلیہ کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں اور ان کی زندگی کا ثبوت طلب کیا ہے۔
یہ واقعہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس کے بین الاقوامی اور علاقائی سیکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

