نیویارک( اے ایف پی / اگزیوز رپورٹس)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی منظوری کیلئے امریکا کی تیار کردہ قرارداد پر بات چیت شروع ہو گئی ہے، تاہم تجویز کردہ بین الاقوامی فوج کے کام کرنے کے دائرہ کار پر اختلافات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ڈان اخبار کے مطابق جمعرات کو امریکا نے اہم عرب اور مسلم ممالک کے نمائندوں کے ساتھ اس قرارداد پر تفصیلی مشاورت شروع کی۔ اس سے ایک روز قبل مسودہ قرارداد سلامتی کونسل کے 15 ارکان کو بھیج دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق مصر، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات اس مسودے کے حق میں ہیں۔
بدھ کو اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ مائیکل والٹز نے کونسل کے 10 منتخب ارکان — الجزائر، ڈنمارک، یونان، گویانا، پاکستان، پاناما، جنوبی کوریا، سیرالیون، سلوینیا اور سومالیا — کے ساتھ اجلاس کیا، جس میں مصر، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے سفیر بھی شریک ہوئے۔
قرارداد کا مقصد امن بورڈ کو خوش آمدید کہنا اور صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت بین الاقوامی سیکیورٹی فورس (ISF) کو بااختیار بنانا ہے۔امریکی میڈیا اگزیوز کے مطابق مائیکل والٹز نے نیویارک میں فلسطینی سفارتکاروں سے بھی اس مسودے پر بات چیت کی۔
قرارداد کی منظوری کیلئے کم از کم 9 ووٹ درکار ہیں اور روس، چین، فرانس، برطانیہ یا امریکا میں سے کسی کا ویٹو نہ ہونا ضروری ہے۔
“زبان اور قانونی دائرہ کار کی اہمیت”
سفارتکاروں کے مطابق اگر سلامتی کونسل کسی مضبوط اقدام جیسے فوجی مداخلت کا فیصلہ کرتی ہے، تو یہ اقدام عام طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب 7 کے تحت کیا جاتا ہے، جو بین الاقوامی امن کیلئےزبردستی اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔
تاہم امریکی مسودہ میں کہا گیا ہے کہ “غزہ کی صورتحال علاقائی امن اور پڑوسی ممالک کی سلامتی کیلئےخطرہ ہے” اس نکتہ پر کئی ممالک کو خدشہ ہے کہ باب 7 باضابطہ طور پر فعال نہیں ہوا، جس سے بعد میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اگر امن بورڈ کو غزہ کے انتظام کے لیے مکمل اختیارات دیے گئے تو اقوام متحدہ کو مقامی اجازت درکار ہوگی، بصورت دیگر بین الاقوامی قانون کے مطابق غزہ تاحال مقبوضہ علاقہ سمجھا جائے گا اور قابض ملک کسی بھی بنیادی تبدیلی کا مجاز نہیں ہوگا۔
“مسودہ قرارداد کے اہم نکات”
آئی ایس ایف (ISF) کو تمام ضروری اقدامات کا اختیار حاصل ہوگا تاکہ وہ شہریوں اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کی حفاظت یقینی بنا سکے۔
فورس اسرائیل، مصر اور تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کے ساتھ سرحدی سیکیورٹی برقرار رکھے گی۔
غزہ میں امن و استحکام اور غیر مسلح کاری کو یقینی بنانا فورس کی بنیادی ذمہ داری ہوگی۔
مسلم ممالک کے بعض نمائندوں نے اس شق پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق آئی ایس ایف کو حماس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا اختیار ہوگا، تاہم امریکا پرامید ہے کہ حماس رضاکارانہ طور پر اس معاہدے کی پابندی کرے گی۔
امریکی اہلکاروں کے مطابق اس فورس میں تقریباً 20 ہزار فوجی شامل ہوں گے۔ اگرچہ امریکا نے اپنے فوجی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن وہ انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ تعاون پر بات کر رہا ہے۔
پاکستان کا نام بھی ممکنہ فوجی شراکت داروں میں شامل ہے، تاہم اسلام آباد نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ موقف نہیں دیا۔
ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق”ہم ممکنہ فوجی شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ انہیں جس قسم کی اجازت یا قانونی زبان درکار ہے، وہ فراہم کی جا سکے۔ تقریباً سب ممالک اقوام متحدہ کی منظوری چاہتے ہیں۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ مسودہ کب ووٹ کے لیے پیش ہوگا، تو انہوں نے کہا”جتنا جلد ممکن ہو، بہتر ہے — ہم ہفتوں کی بات کر رہے ہیں، مہینوں کی نہیں۔”اہلکار نے مزید کہا کہ روس اور چین اپنی رائے ضرور دیں گے، لیکن ان کے خیال میں یہ ممالک اس منصوبے کو نہیں روکیں گے، کیونکہ یہ “ایک نسل کا سب سے امید افزا امن منصوبہ” ہے۔

