نیویارک( نمائندہ خصوصی، ڈبلیو ایچ او )امریکہ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے اپنے انخلا کو حتمی شکل دے دی ہے، تاہم انخلا کے اعلان کو ایک سال گزرنے کے باوجود امریکہ نے ادارے کے واجب الادا فنڈز بھی ادا نہیں کیے۔ ڈبلیو ایچ او کے پریس آفیسر کے مطابق امریکہ عالمی ادارہ صحت کا بھاری مقروض ہے اور 2024-2025 کیلئے 278 ملین ڈالر واجب الادا ہیں مگر امریکہ نے یہ رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر فروری کے آغاز میں ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ دستبرداری سے قبل عالمی ادارہ صحت کو کوئی فنڈز ادا نہیں کریگا۔
ادھر ڈبلیو ایچ او کے مطابق امریکہ پر مجموعی طور پر 130 ملین ڈالر سے زائد کے سابقہ واجبات بھی ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے تسلیم کیا ہے کہ انخلا کے باعث کئی اہم امور پر کام مکمل نہیں ہو سکا، جن میں دیگر ممالک کے صحت سے متعلق ڈیٹا تک رسائی بھی شامل ہے، جو کسی نئی وبا کی بروقت اطلاع کیلئے اہم سمجھی جاتی ہے۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے صحتِ عامہ کے قانون کے ماہر لارنس گوسٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ڈبلیو ایچ او سے انخلا نئی وباؤں کے خلاف عالمی ردعمل کو نقصان پہنچائے گا اور امریکی سائنسدانوں اور دوا ساز کمپنیوں کی ویکسین اور ادویات تیار کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان کی زندگی کا سب سے تباہ کن صدارتی فیصلہ ہے۔
دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے بھی انخلا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا عالمی ادارہ صحت سے علیحدہ ہونا نہ صرف دنیا بلکہ خود امریکہ کیلئے بھی نقصان دہ ہے اور اس سے عالمی و امریکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ تعاون کے بغیر اپنی صحت اور سلامتی کو یقینی نہیں بنا سکتا۔

