امریکہ نے پاکستان کو ہزاروں سال پرانے گندھارہ کےسمگل شدہ نوادرات واپس کر دئیے

نیو یارک (نمائندہ خصوصی)امریکہ نے پاکستان کو ہزاروں سال پرانی گندھارہ اور وادی سندھ تہذیب کے 23 ملین ڈالرز کے سمگل شدہ نوادرات واپس کر دئیے ۔یہ قیمتی نوادرات بین اقوامی سمگلنگ گروہ سے برآمد کیے تھے ۔

پاکستان قونصلیٹ نیو یارک ، پاکستان مشن اقوام متحدہ اور مین ہیٹن ڈسڑکسٹ اٹارنی نیو یارک کے اشتراک سے سفارت خانے میں ہزاروں سال پرانے گندھارہ تہذیب اور وادی سندھ کے فن پاروں کی نمائش اور عمدہ تقریب کاانعقادکیاگیا ۔

نیو یارک میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کونسل جنرل نیو یارک عامر اتروائی اور نیو یارک اٹارنی ایلون براگ کے درمیان قیمتی نوادرات پاکستان کے حوالے کرنے کی دستاویزات پر دستخط ہوئے ۔کونسل جنرل عامر اترزئی نے امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔

نیویارک میں پاکستان کے قونصل خانے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے زیر اہتمام منعقدہ شاندار ثقافتی نمائش “گندھارا کی سرگوشیاں — پاکستان کی گندھارا تہذیب اور بدھ مت ورثے کی جھلک” کے دوران ادا کیے، جو مشن کی عمارت میں منعقد ہوئی۔

اس تقریب میں مختلف ممالک کے اقوام متحدہ مشنز سے تعلق رکھنے والے معزز سفارت کار، پاکستان مشن اور قونصل خانے کے افسران و عملہ، امریکہ کے سینئر حکام — بشمول مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر اور نیویارک کے میئر آفس کے نمائندگان — معروف امریکی کاروباری شخصیات اور پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے نمایاں افراد نے شرکت کی۔

نمائش میں گندھارا اور وادی سندھ کی تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے 39 نایاب نوادرات پیش کیے گئے، جو مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے انسدادِ نوادرات اسمگلنگ یونٹ کی قابلِ تحسین کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان واپس لائے گئے۔

یہ نوادرات، جو تیسری صدی قبل مسیح سے لے کر چوتھی صدی عیسوی تک کے دور سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں بدھ اور بودھی ستووں کے مجسمے، بیانیہ سنگی نقوش، مذہبی برتن اور ماں دیوی کے مجسمے شامل تھے ۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ گندھارا محض ایک قدیم تہذیب نہیں بلکہ امن، رواداری اور مکالمے کی ان اقدار کی زندہ علامت ہے جو صدیوں سے پاکستان کی سرزمین پر پروان چڑھتی رہی ہیں۔

سفیر عاصم نے یہ اختتامی کلمات نیویارک میں پاکستان کے قونصل خانے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے زیر اہتمام منعقدہ شاندار ثقافتی نمائش “گندھارا کی سرگوشیاں — پاکستان کی گندھارا تہذیب اور بدھ مت ورثے کی جھلک” کے دوران ادا کیے، جو مشن کی عمارت میں منعقد ہوئی۔

اپنے خطاب میں سفیر عاصم نے کہا کہ گندھارا بدھ مت فن و دانش کا ایک بے مثال مرکز رہا ہے، جو مشرق و مغرب کے سنگم پر ایک ایسا مقام بن کر ابھرا جہاں روحانی روایات فنکارانہ اظہار کے ساتھ ہم آہنگ ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ گندھارا کو اجاگر کرنا دراصل نہ صرف ایک شاندار ماضی کی جھلک پیش کرنا ہے بلکہ یہ پاکستان کے اس عزم کی بھی تجدید ہے کہ ہم اپنی مشترکہ انسانی میراث کے تحفظ و فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا: “ہمیں فخر ہے کہ پاکستان کے کئی بدھ مت آثار قدیمہ کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ۔

سفیر عاصم نے سفارتی، علمی اور ثقافتی حلقوں، یونیسکو اور دیگر مستقل نمائندہ وفود کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی بدولت حالیہ برسوں میں چوری شدہ گندھارا نوادرات کی بازیابی اور حفاظت ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں اس امر کی روشن مثال ہیں کہ بین الاقوامی تعاون کے ذریعے تاریخی ناانصافیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے اور ثقافتوں و اقوام کو ان کا وقار بحال کیا جا سکتا ہے۔

تقریب کے آغاز میں پاکستان کے قونصل جنرل، عامر احمد اتوزئی نے پاکستان کے بھرپور تہذیبی ورثے کو اجاگر کیا اور بتایا کہ گندھارا سے ان کا ذاتی تعلق ان کے آبائی شہر نوشہرہ سے جڑا ہے، جو مشہور عالمی ورثہ مقام تختِ بھائی کے قریب واقع ہے۔

نمائش میں گندھارا اور وادی سندھ کی تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے 39 نایاب نوادرات پیش کیے گئے، جو مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے انسدادِ نوادرات اسمگلنگ یونٹ کی قابلِ تحسین کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان واپس لائے گئے۔

یہ نوادرات، جو تیسری صدی قبل مسیح سے لے کر چوتھی صدی عیسوی تک کے دور سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں بدھ اور بودھی ستووں کے مجسمے، بیانیہ سنگی نقوش، مذہبی برتن اور ماں دیوی کے مجسمے شامل تھے — جو پاکستان کے گہرے روحانی ورثے اور فنی مہارت کا مظہر ہیں۔

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ محترمہ آمنہ بلوچ نے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں امریکی حکام کا ان نوادرات کی بازیابی میں اہم کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر نائب قونصل عمر شیخ کی جانب سے ایک دلکش ڈاکیومنٹری اور پریزنٹیشن بھی دیکھائی گئی ۔۔

انسدادِ نوادرات اسمگلنگ یونٹ کے سربراہ کرنل میتھیو بوگڈانوس نے ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلوِن براگ کی جانب سے خطاب کیا، جس میں ثقافتی انصاف اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کے خطاب کے بعد نوادرات کو حکومتِ پاکستان کے حوالے کرنے کی باقاعدہ دستخطی تقریب منعقد ہوئی۔

نمائش کا اختتام نوادرات کی نمائش اور روح پرور قوالی کی شاندار محفل کے ساتھ ہوا، جو شرکاء کے دلوں پر پاکستان کی فنی عظمت اور تہذیبی تسلسل کی دیرپا چھاپ چھوڑ گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں