واشنگٹن (الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس ) امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی قرارداد کو بھاری اکثریت سے ناکام بنا دیا ہے۔ یہ قرارداد ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ایل گرین کی جانب سے اس بنیاد پر پیش کی گئی تھی کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے لیے کانگریس سے پیشگی اجازت حاصل نہیں کی۔
قرارداد پر مختصر بحث ہوئی جس نے خود ڈیموکریٹ پارٹی کو بھی تقسیم کر دیا۔ کئی ڈیموکریٹس نے ریپبلکن اراکین کیساتھ مل کر قرارداد کی مخالفت کی . یہ قرارداد 344 کے مقابلے میں 79 ووٹوں سے مؤخر کر دی گئی۔
ایل گرین کا مؤقف ایوان میں ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے رکن کانگریس ایل گرین نے کہا”امریکا اس وقت جمہوریت اور آمریت کے سنگم پر کھڑا ہے۔ میں یہ قدم اس لیے اٹھا رہا ہوں کیونکہ کسی ایک فرد کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کانگریس سے مشورہ کیے بغیر 30 کروڑ سے زائد افراد کو جنگ میں جھونک دے۔”
انہوں نے مزید کہا”میرے نزدیک امریکی آئین یا تو بامعنی ہے یا بالکل بےمعنی۔ اگر صدر پارلیمان کو نظر انداز کر کے جنگی کارروائیاں کریں گے تو یہ جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔”
یہ مواخذے کی تحریک صدر ٹرمپ کی جانب سے 22 جون 2025 کو ایران کے خلاف لانچ کیے گئے آپریشن “مڈنائٹ ہیمر” کے بعد سامنے آئی تھی۔ اس کارروائی میں امریکی افواج نے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق دو ایرانی مقامات پر 14 GBU-57 بم گرائے گئے۔اصفہان کی جوہری تنصیب پر بحیرہ عرب میں آبدوزوں سے دو درجن سے زائد ٹاما ہاک کروز میزائل داغے گئے۔آپریشن میں 7 B-2 بمبار طیاروں سمیت 145 امریکی طیارے اور متعدد آبدوزیں شامل تھیں۔
ایوان کی کارروائی کا نتیجہ ایوان نمائندگان کی جانب سے 344 ووٹ مواخذے کی تحریک کو مؤخر کرنے کے حق میں اور 79 ووٹ مخالفت میں پڑے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ صرف ریپبلکن بلکہ اکثریتی ڈیموکریٹس نے بھی صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کو اس مرحلے پر آگے بڑھانے سے گریز کیا۔

