واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکا کی نیشنل انٹیلیجنس کی جانب سے سالانہ تھریٹ رپورٹ جاری کر دی گئی جس میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کی صورتحال پر خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاک بھارت تعلقات ماضی کی کشیدگی کے باعث بدستور جوہری تصادم کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے واقعات خطے میں کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کھلی جنگ کے خواہاں نہیں، تاہم دہشت گرد عناصر کشیدگی کو ہوا دے سکتے ہیں۔امریکی انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق خطے میں موجود داعش خراسان بیرونی حملوں کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان جدید میزائل ٹیکنالوجی کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے اور یہ صلاحیت جنوبی ایشیا سے باہر اہداف کو نشانہ بنانے تک پھیل سکتی ہے، جبکہ یہ رجحان برقرار رہا تو بین البراعظمی میزائل مستقبل میں امریکی سرزمین کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کشیدہ ہیں، سرحد پار جھڑپوں اور دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کیخلاف کارروائیاں بھی تیز کی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کے پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملوں کے بعد پاکستان نے فوری جوابی کارروائی کی، جبکہ خطے میں پائیدار امن کیلئے طالبان کو پاکستان مخالف شدت پسندوں سے تعلق ختم کرنا ہوگا۔

