واشنگٹن(سی این این، ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی (DIA)، امریکی محکمہ دفاع، وائٹ ہاؤس)امریکی خبررساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی (DIA) کے ابتدائی جائزے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے مکمل تباہی کا سبب نہیں بنے بلکہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو صرف چند ماہ کی حد تک پیچھے دھکیلا جا سکا۔
رپورٹ کی تفصیلات: اہم تنصیبات محفوظ، سنٹری فیوجز سالم
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے کیے گئے جنگی نقصان کے تجزیے (Battle Damage Assessment) کی بنیاد پر ڈی آئی اے نے ابتدائی رپورٹ مرتب کی۔
رپورٹ کے مطابق
ایران کی 3 جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے، لیکن ان کے بنیادی اجزاء مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے۔افزودہ یورینیم کا ذخیرہ محفوظ رہا۔زیادہ تر سنٹری فیوجز (centrifuges)، جو یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہوتے ہیں، ’صحیح سلامت‘ رہے۔امریکی حملوں کے نتیجے میں ایرانی ایٹمی پروگرام کو ممکنہ طور پر 2 سے 6 ماہ تک سست کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے بیانات میں تضاد
یہ ابتدائی انٹیلی جنس رپورٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ان دعوؤں سے متصادم ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ”ایران کی افزودگی کی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔”تاہم، اب دو حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ دعویٰ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان ذرائع نے بتایا کہ”ایران کے کئی حساس مقامات، زیر زمین تنصیبات اور یورینیم کے ذخائر حملے میں متاثر نہیں ہوئے۔”
وائٹ ہاؤس کا ردِعمل
وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے انٹیلی جنس رپورٹ کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا”ہم اس رپورٹ کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کے تمام تجزیاتی نتائج سے اتفاق نہیں کرتے۔”وائٹ ہاؤس کے مطابق، حملے کا اصل مقصد ایران کو سفارت کاری کی میز پر واپس لانا تھا، مکمل تباہی نہیں۔
ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ”یہ محض ابتدائی نتائج ہیں، حتمی تجزیے کیلئےمزید وقت، تصاویر، اور زمینی معلومات درکار ہیں۔ ایران میں کئی مقامات پر رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔”
عالمی مبصرین کے مطابق، اگرچہ امریکا نے حملوں سے فوری عسکری فائدہ حاصل کیا لیکن ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر غیر مؤثر یا تباہ نہیں ہوا۔ اس صورتحال سے سفارتی کوششوں اور علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

