واشنگٹن(ایجنسیاں)سپریم کورٹ آف امریکہ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے یکطرفہ ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر یکطرفہ ٹیرف نافذ کر کے وفاقی قانون کی خلاف ورزی کی اور اس نوعیت کے وسیع اختیارات کے استعمال کے لیے کانگریس کی واضح منظوری درکار تھی۔
سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ صدر کی جانب سے ’’لامحدود مقدار، مدت اور دائرہ کار‘‘ کے ٹیرف عائد کرنے کا دعویٰ غیر معمولی اختیار ہے جس کے لیے واضح قانونی بنیاد ضروری ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ جس ہنگامی اختیار کا سہارا لے کر ٹیرف نافذ کیے گئے وہ اس حد تک طاقت استعمال کرنے کے لیے ناکافی تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلے سے رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ فیصلے نے یہ حد بھی واضح کر دی ہے کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کن پالیسیوں کا نفاذ کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیے تھے۔ گزشتہ ماہ انہوں نے بیان دیا تھا کہ اگر عدالت نے امریکا کے خلاف فیصلہ دیا تو ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

