واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں گرم جوشی کے تازہ اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہوئی اور اس میں علاقائی سکیورٹی، تجارتی تعلقات اور دوطرفہ تعاون کے امور زیر بحث آئے۔

ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات جمعرات کو ہوئی، جس میں صدر ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان بند کمرے میں بات چیت ہوئی۔ پاکستان کی ٹیم شام 6:18 بجے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوئی۔
ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک ’عظیم رہنما‘ وائٹ ہاؤس آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل ملاقات کیلئےآرہے ہیں، فیلڈ مارشل بہترین شخصیت کے مالک ہیں اور وزیرِاعظم بھی۔‘

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری امریکی صدر کے شیڈول سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس ملاقات میں صحافیوں کو مدعو نہیں کیا گیا، جو صدر ٹرمپ کے معمول کے طریقۂ کار سے ہٹ کر ہے کیونکہ عام طور پر وہ اوول آفس میں منتخب صحافیوں کو بلاتے ہیں۔
ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے اسرائیل-حماس جنگ کے خاتمے کیلئےحکمت عملی اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں شہباز شریف ان آٹھ مسلم یا عرب ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں میں شامل تھے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے سائیڈ لائن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کیلئےآئے تھے۔

خبر رساں ذرائع کے مطابق، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں بہتری دیکھی گئی ہے، جس کی ایک وجہ ٹرمپ کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری بھی رہی ہے۔ بھارت نے روسی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، جس پر امریکہ نے بھارت پر ٹیکس بڑھا دیے۔ اس دوران، امریکہ اور پاکستان نے جولائی میں ایک تجارتی معاہدے پر بھی اتفاق کیا، جس سے پاکستان کے غیر مستعمل تیل کے ذخائر کی ترقی میں مدد ملنے اور ٹیکسوں میں کمی کی توقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے میں صدر ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی، اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ٹرمپ کیلئےنوبل امن انعام کی سفارش کی۔ ماضی میں، پاکستان اور بھارت نے امریکی ثالثی میں مئی 2025 میں جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کے بعد سرحدی جھڑپیں اور میزائل و ڈرون حملے کم ہوئے۔
تاہم، پاکستان نے جون میں ایران کے تین نیوکلیئر اداروں پر امریکی حملوں کی مخالفت کی، جسے بین الاقوامی قانون کیخلاف ورزی قرار دیا گیا۔صدر ٹرمپ نے حال ہی میں بھارت کے ساتھ تجارتی امور میں بھی مفاہمت کی امید ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کیلئے بات چیت جاری رکھیں گے۔

