بوسٹن (اے ایف پی) —ایک امریکی وفاقی جج نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی کے فنڈز میں کی جانے والی کٹوتیوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فیصلہ کالعدم کر دیا ہے۔
وفاقی جج ایلیسن بوروغز نے کہا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کیلئے مختص فنڈز منجمد کرنے کے احکامات امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہیں، اور حکومت مستقبل میں بھی اسی جواز کے تحت فنڈز کی کٹوتی نہیں کر سکے گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی غزہ جنگ کے خلاف کیمپس میں ہونے والے مظاہروں کے دوران یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس بنیاد پر حکومت نے یونیورسٹی کے 2 ارب ڈالر سے زائد کے فنڈز منجمد کرتے ہوئے شدید کٹوتیاں نافذ کر دی تھیں۔
تاہم بوسٹن کی وفاقی جج ایلیسن بوروغز نے بدھ کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’عدالت فنڈز منجمد کرنے کے احکامات اور فنڈز کی منسوخی کے خطوط کو پہلی ترمیم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کالعدم کرتی ہے‘‘۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ 14 اپریل 2025 یا اس کے بعد ہارورڈ کے فنڈز منجمد کرنے کے تمام حکومتی احکامات کالعدم تصور ہوں گے۔ فیصلے کے مطابق، انتظامیہ مستقبل میں بھی انہی بنیادوں پر فنڈنگ میں کمی یا معطلی کا اختیار استعمال نہیں کر سکے گی۔
ہارورڈ یونیورسٹی نے اس اقدام کو سیاسی اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ دراصل یونیورسٹی کی داخلہ پالیسی، نصاب اور بھرتیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اپنے اقدام کو قانونی طور پر درست قرار دیا ہے۔

