نیویارک ( جہانگیر لودھی سے)امریکی ریاست منی سوٹا کی عدالت نے جانسن اینڈ جانسن کمپنی کو 37 سالہ امریکی خاتون کو 65.5 ملین ڈالر حرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ خاتون نے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ جانسن اینڈ جانسن کے ٹیلکم پاؤڈر کے طویل استعمال سے انہیں پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہوا۔
عدالتی کارروائی کے دوران خاتون کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ جانسن اینڈ جانسن کے ٹیلکم پاؤڈر میں ایسبیسٹوس نامی مادہ پایا جاتا ہے جو ایک معروف کینسر پیدا کرنے والا عنصر ہے۔ وکلاء کے مطابق کمپنی کو اس خطرے کا علم تھا، تاہم صارفین کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ کارلین نامی خاتون نے 2023 میں بیماری کی تشخیص کے بعد مقدمہ دائر کیا تھا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے جانسن اینڈ جانسن کا ٹیلکم پاؤڈر استعمال کرتی رہی، جس کے باعث اس کے جسم پر ایسبیسٹوس کے اثرات مرتب ہوئے اور بالآخر کینسر تشخیص ہوا۔
دوسری جانب جانسن اینڈ جانسن کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی کا بے بی پاؤڈر محفوظ ہے اور اس میں ایسبیسٹوس شامل نہیں جبکہ اس کا کسی قسم کے کینسر سے کوئی تعلق نہیں۔ یاد رہے کہ جانسن اینڈ جانسن نے 2020 میں متنازع ٹیلکم پاؤڈر کو مارکیٹ سے ہٹا لیا تھا۔
خاتون کے وکیل کا کہنا تھا کہ کمپنی کے بعد ازاں کیے گئے اقدامات ان تکالیف کا ازالہ نہیں کر سکتے جو متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان نے محض منافع کمانے کی خاطر برداشت کیں۔

