واشنگٹن (سی این این) امریکی ایوانِ نمائندگان کے 44 ڈیموکریٹک ارکان نے وزیرِ خارجہ کو خط لکھ کر پاکستان میں ’جبر کی بڑھتی ہوئی مہم اور انسانی حقوق کے بگڑتے ہوئے بحران‘ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ سینیئر پاکستانی حکام جنہیں امریکی شہریوں، رہائشیوں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکانے یا ہراساں کرنے میں ملوث قرار دیا گیا ہے، ان پر فوری ویزا پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات کیے جائیں۔
اس خط کی قیادت ڈیموکریٹک رکن پارلیمان پرمیلا جیبال اور رکن گریگ کیزار کر رہے ہیں، اور اس پر اِلہان عمر، رشیدہ طلیب سمیت متعدد ارکان نے دستخط کیے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن میں امریکی شہریوں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکی، ہراسانی، اغوا یا بیرون ملک رہائش مجبور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں مبینہ طور پر سیاسی مخالفین، صحافیوں، فعال کارکنوں اور تارکینِ وطن شامل ہیں۔
اراکینِ کانگریس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان ایک گہرے آمرانہ بحران کی لپیٹ میں ہے، جہاں سیاسی مخالفین کو بغیر الزام حراست میں رکھا جاتا ہے، صحافیوں کو جلا وطن یا خوفزدہ کیا جاتا ہے، اور عام شہری سوشل میڈیا پوسٹس کی بنا پر گرفتاری یا ہراسانی کا نشانہ بنتے ہیں۔
خط میں خاص طور پر خواتین، مذہبی اقلیتوں اور پسماندہ نسلی برادریوں ،خصوصاً بلوچستان کی اقوام کی جانب سے ظلم، نفرت اور ریاستی جبر کے الزامات سامنے لائے گئے ہیں۔خط میں کچھ مصدقہ کیسز کا حوالہ دیا گیا، جن میں ایک تحقیقاتی صحافی احمد نورانی کا کیس شامل ہے؛ الزام ہے کہ ان کے بھائی کو فوجی بدعنوانی پر رپورٹنگ کے بعد اغوا اور طویل عرصے تک حراست میں رکھا گیا۔
اراکین نے کہا کہ امریکی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے حکام کے خلاف ’میگنیٹسکی پابندیاں‘، ویزا پابندیاں اور اثاثوں کی منجمدی جیسے اقدامات نافذ کرے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہوں۔خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پچھلے سال انتخابات میں غیر جانبدار مبصرین نے بدعنوانیوں کی نشاندہی کی تھی اور یہ تمام اقدامات امریکی عزم کو انسانی حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کی راہ پر مضبوط کریں گے.
جبکہ امریکی شہریوں کو سرحد پار جبر اور خوف سے محفوظ رکھیں گے اور علاقائی استحکام کو فروغ دیں گے۔اراکین نے وزیرِ خارجہ سے 17 دسمبر 2025 تک جواب طلب کیا ہے اور 5 تفصیلی سوالات بھیجے ہیں تاکہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، اقدامات اور ممکنہ پابندیوں کے بارے میں وضاحت مانگی جائے۔

