امن، امن اور ترقی مگر کیسے؟

یہ اللہ کا کرم ہے کہ پانسے سیدھے پڑ رہے ہیں، پاکستان جمہوری جدوجہد اور لاکھوں قربانیوں اور خون کے عوض ملا، اس کے بعد سے اب تک ہم یہی سنتے چلے آ رہے ہیں کہ ملک خطرے میں ہے، یہ سنتے سنتے ہی 1971ء میں ایک کے دو ملک بن گئے، اب پھر وہی خطرے والی تان سُر کے ساتھ لگائی جا رہی ہے، اس کیلئے بلوچستان کو ہدف بنایا گیا ہے اور ملک دشمن قوتیں بیرونی مدد اور تعاون سے ایسا کھیل کھیل رہی ہیں کہ یہ پاکستان بھی حصوں میں تقسیم ہوجائے اس کیلئے نئے صوبوں کی تشکیل سے لے کر محرومی کا بیانیہ بھی بنایاجا رہا ہے اور اب تو یہ خبر بھی ہے کہ وفاق کی سطح پر دس سے بارہ صوبوں کی تشکیل کسی مرحلے پر زیرغور ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بڑے زوردار طریقے سے یہ تجویز مسترد کر چکے البتہ انہوں نے اسے یوں مشروط بھی کیا کہ پنجاب اسمبلی نے جنوبی پنجاب صوبے کیلئےقرارداد منظور کر رکھی ہے وفاقی حکومت پہلے اس پر تو عمل کرے، یوں یہ تجویز بھی متنازعہ ہے کہ سندھ میں ایم کیو ایم صوبے بنانے کے حق میں ہے اور ان کے مطابق کراچی، حیدرآباد اور میرپور پر مشتمل ایک صوبہ بننا چاہیے۔ ان کی اس تجویز کو پیپلزپارٹی رد کر چکی کہ یہ تجویز بدنیتی پر مبنی ہے۔ پیپلزپارٹی کا اس حوالے سے موقف بہت سخت ہے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور سینئر وزیر شرجیل میمن کے علاوہ دیگر وزراء نے بھی اس سلسلے میں سخت موقف اختیار کیا ہے جبکہ یہ تجویز سابق ضلع ناظم لاہور میاں عامر محمود کی طرف سے پیش کی گئی اور اب وہ ایک گروپ کی صورت میں نوجوانوں کی ذہنی رو اس کیلئےاستعمال کرنے پر کام کررہے ہیں، ان کی تجویز ہے کہ چاروں صوبوں کے جتنے ڈویژن ہیں ان پر مشتمل 33صوبے بنا دیئے جائیں وہ اس کے فوائد بھی گناتے ہیں، ابتداً اس کا کوئی خاص نوٹس نہ لیا گیا تاہم اس تجویز کی مخالفت میں بھی دلائل شروع کر دیئے گئے ہیں اور اعتراض کرنے والے اس تجویز کے پس منظر میں ”کچھ خاص“ محسوس کررہے ہیں، اب نئی صورت حال میں ایم کیو ایم پاکستان نے بھی اپنے رویے میں کچھ تبدیلی کی اور پرانی شکایات کو نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے تو کہا کہ متحدہ کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے جبکہ اس سے پہلے مصطفے کمال بڑے زعم میں جواب دے چکے ”میں وزارت کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں“۔

مجموعی طور پر سندھ اور پنجاب میں امن ہے،جرائم ہو رہے ہیں کہیں کم کہیں زیادہ البتہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان زیادہ متاثر ہیں اور یہ سب دہشت گردی کی وجہ سے جو بیرونی تعاون سے ہو رہی ہے اور پچھلے دنوں سے ملک دشمن عناصر نے خوف کی فضا پیدا کرنے کیلئےمختلف نوعیت کے حملے شرو ع کر دیئے ہیں۔ بہادر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز جی جان سے ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئےمستعد ہیں لیکن یہ ناکافی ہے ملک کو مکمل اندرونی استحکام کی ضرورت ہے اسی صورت میں اندرون ملک زمین میں محفوظ معدنیاتی خزانے نکلیں گے اور ملک قرض کی لعنت سے پاک ہو سکے گا۔ میں کئی بار عرض کر چکا اور میرا یقین ہے کہ میرے پیارے ملک کی زمین کے اندر گیس، پٹرولیم اور معدنیات کے خزانے چھپے ہوئے ہیں اگر ملک کے اندر مکمل عمل ہو تو یہ سب اپنے ملکی ماہرین کی کوششوں سے دریافت ہو سکتے ہیں۔ سیندک اور ریکوڈک کے حوالے سے جو پیش رفت ہوئی اور ہو رہی ہے اس کیلئے بھی امن و استحکام کی بہت ضرورت ہے کہ زمینی دولت ملکی کی معیشت کو قرض فری اور عوامی بہبود کو اونچی سطح تک پہنچایا جا سکے۔ اس کیلئےبھی صرف اندرون ملک ہی نہیں خطے میں بھی امن کی ضرورت ہے جو اب بھارت اور افغانستان کی قیادت کے باعث نہیں ہو پا رہا۔

میں ہی نہیں، بڑے بڑے مفکر بھی نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں امن چاہتے ہیں کہ عام لوگ جن کے نام سے اقتدار حاصل کرکے حکومتیں کی جاتی ہیں وہ بھی سکھ کا سانس لے سکیں کہ یہ زمین تو اللہ نے بنائی ہے فلاح انسانیت کیلئےاور اس کی طرف سے یہی درس دیا جاتا ہے۔ اللہ نے ہر دور میں پیغمبر بھیجے اور شر کے مقابلے میں نیکی کو فتح یاب کرایا، فرعون پیدا ہوئے تو اللہ نے موسیٰ بھی پیدا فرما دیئے لیکن انسان ایسی خطاؤں کا پتلا ہے کہ ماضی بعید تو دور کی بات یہ ماضی حال ہی سے سبق حاصل نہیں کرتا، برصغیر پاک و ہند بھی خط زمین پر ہی ہیں، دو حصوں میں تقسیم بھی انصاف ہی کے حوالے سے ہوئی۔1947ء کی ہجرت اور وارن کمیشن کی بددیانتی کے باعث قتل و غارت گری کے باوجود بتدریج امن اور سکون ہوتا چلا گیا، دونوں اطراف میں انسانیت نے انگڑائی لی، میں ایک بار نہیں قریباً پانچ چھ بار بھارت گیا۔ بڑی بڑی تقریبات ہوئیں، عوامی سطح پر ملاقاتیں اور بات چیت بھی ہوتی رہی۔ یقین جانئے دونوں اطراف کے لوگ امن پسند اور بھائی چارہ کے حامی ہیں، ہماری گفتگو اور باہمی مذاکرات کے دوران تقسیم کی مخالفت میں بھی بات ہوتی رہی تاہم بات یہاں ختم ہو جاتی کہ دو بھائیوں میں بھی تو جائیداد کا بٹوارہ ہو جاتا ہے اور ان کی دیواریں سانجھی اور بھائی چارہ بھی رہتا ہے تو دونوں ملکوں کے درمیان ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے انتہا پسند حضرات نے راشٹریہ سیوک سنگھ جیسی تنظیمیں بنائیں اور ہندوتوا کا خواب دیکھنے لگے۔ انتہا پسندی بھی عجیب شے ہے کہ تُھڑ دِلیے بھی اسے پسند کرنے لگتے ہیں چنانچہ گجرات سے ایک ایسے شخص کو آگے بڑھا کر اس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی اور مودی کو آگے بڑھا کر گجرات کا وزیراعلیٰ اور پھر بھارت کا وزیراعظم بنوایا گیا ان انتہا پسندوں کی وجہ سے بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کی گئیں اور بڑھتے بڑھتے بات اب حقیقی دشمنی تک پہنچ چکی۔ مودی نے بھارتی عوام کی بھاری اکثریت کے جذبات کے برعکس ایسی فضا بنا رکھی ہے کہ مجموعی طور پر ہندو دھرم والے متشدد ہو گئے اور مودی دور میں ان کو شہ ملتی ہے اور یوں اقلیتوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ بہار میں وزیراعلیٰ نتیش کی طرف سے نقاب کھینچنے کا واقع بھی اسی انتہا پسندی کا مظہر ہے۔ مودی والی بی جے پی نے اکھنڈ بھارت کے خواب میں مبتلا ہو کر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے اور مئی10کے حالات کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ یہی وہ طبقہ ہے جو کسی دوسرے کو برداشت کرنے سے گریز پا ہے اور پورے بھارت میں ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اقتدار اور تعصب کے باعث نوبت یہ ہے کہ کھیلوں کیلئےبھی برداشت نہیں اور را مسلسل ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتی چلی آ رہی ہے اور اب افغانستان کی عبوری حکومت بھی اس کے ساتھ شامل ہو گئی ہے۔ ان حضرات کو انسانیت یاد آ جائے تو شاید امن ہو سکے۔ تاہم بھارتی مودی اور راشٹریہ سیوک سنگھ ایسا نہیں ہونے دے رہے، حالانکہ بہتر اور دوستانہ تعلقات ہی دونوں کیلئے بہتر ہیں مودی یاد رکھے کہ اقلیتوں کی تعداد متعصب اور تشدد پسند ہندوؤں سے بہت زیادہ ہے اگر ان کا پیمانہ صبرلبریز ہو گیا اور سسک سسک کر مرنے کی بجائے ایک ہی بار مرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تو پھر مودی کا کیا بنے گا؟