جکارتہ، انڈونیشیا(اے ایف پی)انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں شادیوں اور عوامی تقریبات میں استعمال ہونے والے شور مچانے والے لاؤڈ اسپیکر ٹاورز پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ مذہبی اداروں نے حد سے زیادہ شور کو ’’حرام‘‘ قرار دے دیا ہے جبکہ حکومت نے شور کی سطح کو ریگولیٹ کرنے کیلئےنئے قوانین جاری کیے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق مشرقی جاوا کے کئی علاقوں میں لاؤڈ اسپیکر ٹاورز اس قدر شور پیدا کر رہے تھے کہ گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹنے، دیواروں میں دراڑیں پڑنے اور عوامی صحت کو نقصان پہنچنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ مقامی زبان میں اس شور کو ’’ساؤنڈ ہورِگ‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’’لرزنا یا ہلنا‘‘۔
مشرقی جاوا کی گورنر خفیفہ اندر پراوانسا نے بتایا کہ شور کی سطح کو کنٹرول کرنا صحت اور سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ حکومت نے شادیوں اور اجتماعات میں آواز کی حد 120 ڈیسِبل مقرر کی ہے، جب کہ پریڈز اور مظاہروں میں استعمال ہونے والے موبائل یونٹس کیلئے 85 ڈیسِبل کی حد رکھی گئی ہے۔ اسکولوں، ہسپتالوں اور عبادت گاہوں کے قریب لاؤڈ اسپیکرز چلانے پر پابندی ہوگی۔
جولائی میں ایک مقامی اسلامی کونسل نے فتویٰ دیا تھا کہ کسی تقریب میں آواز کا ایسا استعمال جو نقصان دہ یا عبادت میں خلل ڈالنے والا ہو، شرعاً ’’حرام‘‘ ہے۔صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 85 ڈیسِبل سے زیادہ آواز طویل عرصے تک سماعت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جب کہ 120 ڈیسِبل سے زیادہ شور فوری طور پر صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ حال ہی میں ایک خاتون دل کا دورہ پڑنے کے بعد مبینہ طور پر لاؤڈ اسپیکر ٹاورز کی آواز کے باعث ہلاک ہوگئی تھیں۔
اگرچہ حکومت نے قوانین جاری کر دیے ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کمزور ہے۔ اے ایف پی کے مطابق حکام کی موجودگی میں بھی کئی تقریبات میں حد سے زیادہ شور سنائی دیا۔انڈونیشیا میں شور شرابے کے خلاف حکومتی اقدام اور مذہبی فتویٰ عوامی تحفظ کے لیے اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے بغیر عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکے گا۔

