انڈیا کے براہموس میزائل حملے میں پاکستان کا ایری آئی طیارہ تباہ ہوا تھا

پاکستان ایئر فورس (PAF) کے ریٹائرڈ ایئر مارشل مسعود اختر نے پہلی مرتبہ کھلے عام تصدیق کی ہے کہ انڈیا کے حالیہ میزائل حملے میں پاکستان کا ایک جدید ایری آئی AEW&C طیارہ بھولاری ایئربیس پر شدید نقصان کا شکار ہوا۔
اس انکشاف نے نہ صرف پاکستان کے فضائی دفاعی نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کیا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ہائی ٹیک فضائی جنگ کے ایک نئے دور کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
اس حملے میں اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف سمیت ایک درجن سے زیادہ ائر فورس کے اہلکار شہید ہوئے، جو بھولاری ایئر بیس پر تعینات تھے۔ پاکستان ایئر فورس نے محض سکواڈرن لیڈر کی شہادت کی تصدیق کی ہے، تاہم ایئر بیس پر ہونے والے طیاروں کے نقصان کی نوعیت پر سرکاری سطح پر خاموشی ہے۔
ریٹائرڈ ایئر مارشل مسعود اختر، جو دفاعی حکمت عملی میں اپنی سوچ، بصیرت اور گہرے تجربے کے لیے جانے جاتے ہیں، نے ایک صحافی سہراب برکت کو دیے گئے ایک وڈیو انٹرویو میں انڈیا کے “آپریشن سندور” کے تحت ہونے والے میزائل حملے کی تفصیلات بیان کیں۔
ان کے مطابق، 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب انڈیا کی جانب سے چار براہموس سپرسونک کروز میزائل داغے گئے، جن میں سے چوتھا میزائل بھولاری ایئربیس پر ایک ایسے ہینگر پر گرا، جہاں پاکستان کا ایک Saab-2000 AEW&C (ایری آئی) طیارہ کھڑا تھا۔
ایئر مارشل (ر) مسعود اختر کا کہنا تھا کہ “(پاکستانی) پائلٹس نے فوراً اپنے طیارے محفوظ کرنے کی کوشش کی، لیکن میزائل مسلسل آتے رہے… بدقسمتی سے، چوتھا میزائل ہینگر پر لگا جہاں ہمارا ایک AEW&C طیارہ موجود تھا۔ وہ طیارہ نقصان کا شکار ہوا اور جانی نقصان کی بھی اطلاعات ملیں…
بھولاری کا سٹریٹیجک نقصان
جامشورو کے قریب واقع بھولاری ایئربیس پاکستان کی جنوبی فضائی کمانڈ کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں تعینات AEW&C طیارے دشمن کی فضائی نقل و حرکت کا سراغ لگانے، فضائی دفاعی نظام کو مربوط رکھنے، اور انٹرسیپٹر جیٹ طیاروں کی رہنمائی جیسے کلیدی فرائض انجام دیتے ہیں۔ ایری آئی کو پاکستان کی “فضا میں موجود آنکھ” قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھولاری میں اس طیارے کی تباہی نے پی اے ایف کے فضائی کمانڈ و کنٹرول نظام کو “عارضی طور پر اندھا” کر دیا، خاص طور پر انڈیا سے متصل جنوبی فضائی محاذ پر، جہاں مسلسل نگرانی کی اشد ضرورت رہتی ہے۔
ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا کا تجزیہ
علاقائی دفاعی امور کے معتبر تجزیاتی پلیٹ فارم ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا کے مطابق:
“براہموس میزائل کا پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو کر ایک AEW&C طیارے کو نشانہ بنانا صرف ایک عسکری کامیابی نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں ہائی پریسشن وارفیئر کے نئے دور کا اعلان ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انڈیا اب محض دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔”
ڈیفینس سیکیورٹی ایشیا کے مطابق، یہ حملہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹیجک توازن میں ایک نیا باب کھولتا ہے، جہاں فضائی جنگ اب محض ڈاگ فائٹ یا حدود کی خلاف ورزی تک محدود نہیں رہی، بلکہ AEW&C، الیکٹرانک وارفیئر اور میزائل ڈیفنس سسٹمز پر مرکوز ہو گئی ہے۔
پی اے ایف کی خاموشی، مگر دعویٰ برقرار
اگرچہ پاکستان کے سرکاری اداروں کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم کچھ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے انڈیا کے کم از کم دو جنگی طیارے — ایک SU-30 اور ایک میراج 2000، سمیت ممکنہ طور پر تین رافال — گرائے ہیں۔
پچھلے واقعات کے برعکس، اس بار پاکستانی عوام اور میڈیا کو طویل عرصے تک حملے کی نوعیت سے بے خبر رکھا گیا، جس پر تنقید بھی ہوئی۔ تاہم، ایئر مارشل مسعود اختر کے انٹرویو کے بعد اس حملے کی تفصیلات پہلی بار منظرعام پر آئیں۔
دیگر اہداف اور نقصان
ذرائع اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، براہموس میزائل حملے میں صرف بھولاری ہی نہیں، بلکہ نور خان (راولپنڈی)، سرگودھا، اور رحیم یار خان کے PAF بیسز بھی نشانہ بنے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی سیٹلائٹ تصاویر اور تجزیے اس نقصان کی تصدیق کرتے ہیں، تاہم پاکستان کی طرف سے ان جگہوں پر کسی نقصان کی باضابطہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
نئی دوڑ، نئی حکمتِ عملی؟
یہ واقعہ پاکستان کے لیے محض ایک عسکری نقصان نہیں، بلکہ ایک سٹریٹیجک چیلنج بھی ہے۔ اس سے نہ صرف AEW&C طیاروں کی حفاظت پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ ملک کی مجموعی فضائی کمانڈ اور سیر ڈیفنس کی ترتیب پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
ماہرین اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنے AEW&C بیڑے کو بکھری ہوئی تعیناتی (dispersal)، بہتر کیموفلاج، اور مضبوط ہارڈننگ کے ذریعے محفوظ بنانا ہوگا۔ ساتھ ہی الیکٹرانک وارفیئر، ہائپرسونک ڈیفنس اور کاؤنٹر-AWACS حکمت عملیوں پر سرمایہ کاری میں تیزی لانا ہوگی۔
جیسا کہ ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا نے خبردار کیا:
“ایری آئی جیسے حساس فضائی اثاثے کا نقصان جنوبی ایشیا کی حساس سٹریٹجک صورتحال عدم توازن کا ایک سنگین نوعیت کا واقعہ ہے — اس خطے میں امن صرف اتفاق سے نہیں آتا، بلکہ مسلسل دانشمندانہ دفاعی حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے۔”
بھولاری میں ایری آئی طیارے کی تباہی ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جنگ اب صرف زمین یا روایتی فضائی حملوں تک محدود نہیں رہی۔
اگرچہ پی اے ایف نے انڈین ائر فورس کو کافی شرمندہ کیا ہے مگر بھولاری کے اس واقعے نے ایک نئے عہد کا آغاز کر دیا ہے — ہائی پرسیشن، ہائی ٹیک، اور ہائی رِسک فضائی جنگ کا دور — جہاں غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں