اونٹاریو(نمائندہ خصوصی )— اونٹاریو کالج آف سائیکالوجسٹس اینڈ بیہیوئیر اینالسٹس کی تادیبی سماعت کے دوران لندن، اونٹاریو کی ماہر نفسیات تاتیانا زیب کا لائسنس اور سرٹیفیکیشن منسوخ کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ مریضوں کی سنگین شکایات پر مبنی ایک مشترکہ درخواست کی بنیاد پر کیا گیا۔
سماعت میں انکشاف ہوا کہ ایک مریض کو مبینہ طور پر غیر قانونی ادویات جیسے کیٹامین اور سائلو سائبین دی گئیں؛
دوسرے مریض نے دعویٰ کیا کہ ان کا زیب کے ساتھ جنسی تعلق رہا؛
تیسرے فرد نے الزام لگایا کہ زیب نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے بغیر خود کو “ڈاکٹر” کے طور پر پیش کیا۔
تادیبی پینل کی صدارت ڈاکٹر ایان نکلسن نے کی، جنہوں نے مختصر سماعت کے بعد زیب کا پریکٹس لائسنس اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا”عوام ماہرینِ نفسیات پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ نگہداشت اور دیانت کے اعلیٰ معیارات پر قائم رہیں گے۔ محترمہ زیب کے اقدامات نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔”
سماعت کے دوران بتایا گیا کہ زیب اور ایک مریض کے درمیان غیراخلاقی تعلق قائم رہا، جسے ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ زیب کے وکیل گرانٹ فرگوسن نے پینل کو آگاہ کیا کہ ان کی مؤکلہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں اور مزید پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے دستبرداری کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، تاتیانا زیب لندن کے Wharncliffe Road South پر واقع “Bridge the Gap” نامی کاروبار کی مالک بھی تھیں جہاں وہ ذہنی صحت کی خدمات فراہم کرتی تھیں۔
یہ واقعہ ذہنی صحت کے شعبے میں اخلاقی معیارات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ ان اصولوں کی خلاف ورزی کے نتائج نہ صرف مریضوں کیلئے نقصان دہ ہوتے ہیں بلکہ پیشہ ور افراد کے کیریئر کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

