اونٹاریو :کینیڈا میں جرائم کی روک تھام کیلئے نئے قوانین متعارف

پیل، اونٹاریو (نمائندہ خصوصی) وفاقی حکومت نے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے نئے قانونی اقدامات متعارف کروا دیے ہیں، جن کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس (CSIS) کو جرائم کی تحقیقات اور خطرات سے نمٹنے کیلئے جدید اختیارات دیے جائیں گے۔

یہ اقدامات “کِیپنگ کینیڈینز سیف ایکٹ” (بل سی-22) کے تحت متعارف کروائے گئے ہیں، جس کا اعلان وزیرِ پبلک سیفٹی گیری آننداسنگاری اور وزیرِ انصاف شان فریزر نے کیا، جبکہ سیکریٹری آف اسٹیٹ روبی سہوتا اور پیل پولیس چیف نشان درائیاپاہ نے بھی ان اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے باعث جرائم کی نوعیت پیچیدہ ہو چکی ہے، جن میں بچوں کا استحصال، بھتہ خوری، انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ شامل ہیں، جبکہ دہشت گردی اور بیرونی مداخلت جیسے خطرات بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑھ رہے ہیں۔

نئے قانون کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے خطرات کی بروقت نشاندہی، تیز تر کارروائی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے سنگین جرائم کی مؤثر تحقیقات کر سکیں گے۔

روبی سہوتا نے کہا کہ یہ قانون جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور اس سے ملک بھر میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا، جبکہ پیل پولیس چیف نشان درائیاپاہ نے کہا کہ نئے اختیارات سے جرائم کی روک تھام میں نمایاں بہتری آئے گی۔

مسی ساگا کی میئر کیرولین پیرش اور برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے اسے عوام کے تحفظ کیلئے اہم قدم قرار دیا ہے۔