اوٹاوا(نمائندہ خصوصی)آسٹریلیا، کینیڈا، ڈنمارک، ایسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئس لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، لٹویا، لتھوانیا، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، پرتگال، سلووینیا، اسپین، سویڈن اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ، یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی، یورپی کمشنر برائے مساوات، ہنگامی تیاری اور بحالی، اور یورپی کمشنر برائے بحیرہ روم نے آج ایک مشترکہ بیان جاری کیاہے.
“اگرچہ ہم امداد کی محدود بحالی کے اشاروں کا اعتراف کرتے ہیں لیکن اسرائیل نے دو ماہ سے زائد عرصے تک غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو روکے رکھا۔ خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی اشیاء مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں، اور عوام قحط سالی کے دہانے پر ہیں۔ غزہ کے عوام کو فوری طور پر وہ امداد ملنی چاہیے جس کی انہیں اشد ضرورت ہے۔
امداد کی بندش سے قبل اقوام متحدہ اور انسانی امدادی ادارے جان خطرے میں ڈال کر اور اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کے باوجود غزہ میں امداد پہنچا رہے تھے۔ یہ ادارے انسانی اصولوں—غیر جانبداری، آزادی، اور انسانیت—پر عمل پیرا ہیں اور ان کے پاس پوری غزہ میں امداد فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے امداد کی فراہمی کیلئے منظور کردہ نئے ماڈل کو اقوام متحدہ اور انسانی اداروں نے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اس ماڈل سے امدادی کارکنوں اور متاثرین کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اقوام متحدہ اور شراکت دار اداروں کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے اور امداد کو سیاسی اور عسکری مقاصد سے مشروط کیا جاتا ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ انسانی امداد کو کبھی بھی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور فلسطینی سرزمین کو کسی بھی جغرافیائی تبدیلی یا سکڑاؤ کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
ہم بطور انسانی عطیہ دہندگان حکومتِ اسرائیل کو دو سادہ مگر اہم پیغامات دیتے ہیں کہ غزہ میں انسانی امداد کی مکمل بحالی کی فوری اجازت دی جائے۔اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کو خودمختار اور غیرجانبدار طریقے سے کام کرنے دیا جائے تاکہ انسانی جانیں بچائی جا سکیں، مصائب کم ہوں اور انسانی وقار برقرار رکھا جا سکے۔
ہم غزہ میں درپیش ہنگامی حالات میں اپنی امدادی کوششوں کے عزم پر قائم ہیں۔ ہم یہ بھی دہراتے ہیں کہ حماس فوری طور پر تمام یرغمالیوں کو رہا کرے اور انسانی امداد کی غیرمشروط تقسیم کی اجازت دے۔
یہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ فوری جنگ بندی اور دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت ہی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کیلئے پائیدار امن اور سلامتی کا واحد راستہ ہے اور پورے خطے میں استحکام کا ضامن بھی۔”

