اوٹاوا: اسٹیلینٹس کی عدم حاضری پر ایم پیز برہم، کمپنی نے تکنیکی مسائل کو وجہ قرار دیا

اوٹاوا (نامہ نگار)کینیڈا کی پارلیمنٹ کی کمیٹی اجلاس میں عالمی آٹومیکر اسٹیلینٹس کے نمائندے کی عدم موجودگی پر متعدد اراکینِ پارلیمنٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ایگلنٹن—لارنس سے لبرل ایم پی ونس گیسپیرو نے کہا کہ وہ انتہائی ناراض ہیں کہ اسٹیلینٹس کمیٹی میں شامل نہیں ہو سکی، اور یہ کہ یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ کمپنی کی ایک ایگزیکٹو ٹی وی لنک کے ذریعے سرکاری آپریشنز اور تخمینوں کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والی تھیں مگر دو گھنٹے کے اجلاس میں کبھی شامل نہ ہو سکیں۔

کمیٹی چیئر کیلی مکاولے نے کہا کہ اسٹیلینٹس کو تکنیکی مسائل کا سامنا تھا، تاہم کئی اراکین نے اس وضاحت پر شکوک ظاہر کیے کہ کمپنی نے مسئلہ حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

کمپنی نے بیان میں کہا کہ وہ پیش ہونے کیلئےتیار تھی مگر آئی ٹی مسائل کے باعث ان کی ایگزیکٹو ٹیریسا پیروزہ شامل نہ ہو سکیں۔کونزرویٹو ایم پی مکاولے نے اس عدم شرکت کو ’’ناقابلِ یقین‘‘ قرار دیا، جب کہ بلاک کیوبیکوا کی ایم پی میری-ہیلین گوڈرو نے کہا کہ ایک تکنیکی جدت کی حامل کمپنی کا انٹرنیٹ مسائل کا شکار ہونا ’’ناقابلِ فہم‘‘ ہے۔

یہ سماعت وفاقی حکومت اور اسٹیلینٹس کے درمیان ملٹی ملین ڈالر مراعاتی معاہدوں کی وضاحت کے لیے رکھی گئی تھی، جن کا مقصد اونٹاریو میں روزگار اور آٹوموٹیو صنعت کا تحفظ ہے۔پچھلے ماہ کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ برامپٹن پلانٹ سے جیپ ماڈل کی پروڈکشن امریکا منتقل کر رہی ہے، جس سے پہلے سے بے روزگار 3 ہزار کارکنوں کی ملازمت مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔

وفاقی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اسٹیلینٹس نے ملازمتوں سے متعلق معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جب کہ اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کا مؤقف ہے کہ حکومت نے برامپٹن پلانٹ کے لیے کوئی واضح روزگار ضمانت شامل نہیں کی۔بیان میں کمپنی نے کہا کہ وہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پلانٹ کے مستقبل کے لیے قابلِ عمل حل تلاش کرنے پر کام کر رہی ہے۔

کمیٹی نے برامپٹن پلانٹ سے متعلق وفاقی معاہدوں کی غیر مدون نقول طلب کی تھیں۔ انہیں ایک معاہدہ اور اس کی ترمیم موصول ہوئی، مگر کئی حصے سیاہ کر دیے گئے تھے جس پر اراکین نے برہمی کا اظہار کیا۔سینئر سرکاری اہلکاروں نے کہا کہ معاہدے میں تجارتی رازداری کی شقیں شامل ہیں، اس لیے کمپنی نے جو حصے خفیہ رکھنے کا کہا تھا، ان کی تنسیخ کے بعد ہی دستاویزات دی گئیں۔

کچھ اراکین نے کہا کہ ترمیم شدہ حصے دیگر معاہدوں سے مختلف ہیں، جن کی تفصیلات میڈیا نے معلومات کے حصول کے قانون کے تحت حاصل کی تھیں۔اجلاس کے دوران حکام نے زور دیا کہ مزید تفصیلات بند کمرے کے اجلاس میں ہی شیئر کی جاسکتی ہیں، تاہم کئی اراکین نے اس مؤقف پر سوال اٹھایا۔

بالآخر کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اسٹیلینٹس کو اگلے ہفتے تک کم از کم ایک گھنٹے کیلئے دوبارہ بلایا جائے، ورنہ 9 دسمبر کو زبردستی طلبی (سمّنز) جاری کی جائیگی۔