اوٹاوا : ’انسدادِ نفرت بل‘ سی-9 پر بحث تیز، مذہبی آزادیوں پر پابندیوں کا خدشہ

اوٹاوا (اشرف خان لودھی سے)کینیڈا کی پارلیمنٹ میں زیرِ بحث نئے قانون Bill C‑9 نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت فوجداری ضابطے میں ایسی ترامیم تجویز کی گئی ہیں جو کینیڈا میں مقیم مختلف مذہبی طبقات کی آزادیٔ اظہار پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس بل کی سب سے متنازع شق وہ ترمیم ہے جس کے تحت دہائیوں سے موجود مذہبی استثنیٰ کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ موجودہ قانون کے مطابق اگر کوئی شخص مذہبی کتاب یا عقیدے کی بنیاد پر نیک نیتی سے رائے کا اظہار کرے تو اسے نفرت انگیز تقریر کے قانون سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، تاہم نئی تجویز کے بعد یہ قانونی تحفظ ختم ہو سکتا ہے۔

قانونی ماہرین اور مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ بل کسی ایک مذہب تک محدود نہیں بلکہ اس کی زد میں کینیڈا میں موجود مختلف مذاہب آ سکتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو مساجد، چرچ، گوردواروں اور مندروں میں مذہبی تعلیمات کی تشریح یا مقدس کتابوں کے اقتباسات بیان کرنے پر بھی قانونی اعتراضات سامنے آ سکتے ہیں، اگر کسی فریق کی جانب سے اسے نفرت انگیزی قرار دیا جائے۔

بل کے مطابق مذہبی مقامات، تعلیمی اداروں اور ثقافتی مراکز کے باہر احتجاج، دھونس دھمکی یا لوگوں کی رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نفرت انگیز جرائم کیلئےسخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں جن میں بعض صورتوں میں عمر قید تک کی سزا بھی شامل ہے۔ مجوزہ قانون میں مخصوص نفرت انگیز علامات کی عوامی نمائش پر پابندی لگانے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے۔

کینیڈا میں سرگرم مختلف مذہبی اور سماجی تنظیموں نے اس بل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہری آزادیوں کی تنظیم کینیڈین سول لبرٹیز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون پرامن احتجاج اور مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اسے مبہم اور ناقص قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ قوانین ہی نفرت انگیزی کے سدباب کیلئے کافی ہیں۔

دوسری جانب کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد کسی مذہب کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے نفرت انگیز واقعات اور تشدد کی روک تھام کرنا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق مذہبی مقامات کا تحفظ اور عوامی مقامات پر نفرت انگیز علامات کی روک تھام کینیڈا کی کثیرالثقافتی شناخت کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔