اوٹاوا: ماہرین کا کینیڈین شہریوں کوامریکا کا سفر نہ کرنے کا مشورہ

اوٹاوا/واشنگٹن (سی ٹی وی نیوز)ماہرین نے کینیڈین شہریوں کو امریکا کے سفر سے متعلق سخت وارننگ دیتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکا کا سفر نہ کیا جائے۔ امریکی وفاقی عدالت کے ایک مقدمے کے تحت سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران امریکی امیگریشن حکام نے درجنوں کینیڈین شہریوں کو، جن میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں، گرفتار یا حراست میں رکھا۔

سی ٹی وی نیوز کے مطابق یہ اعداد و شمار ڈیپورٹیشن ڈیٹا پروجیکٹ کی جانب سے حاصل کیے گئے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوری 2025 سے اب تک 200 سے زائد کینیڈین شہری امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی تحویل میں رہے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 137 تھی۔ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2023 سے اکتوبر 2025 کے وسط تک مجموعی طور پر 434 مرتبہ کینیڈین شہریوں کو آئی سی ای کی حراست میں رکھا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے صرف دو افراد پر سنگین جرائم کا ریکارڈ تھا جبکہ چھ افراد پر دیگر معمولی نوعیت کے مقدمات درج تھے، تاہم 366 کینیڈین شہریوں کے خلاف کسی سنگین جرم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق 94 کینیڈین شہری بغیر درست ویزا کے امریکا میں پائے جانے پر حراست میں لیے گئے جبکہ 66 افراد پر ویزا مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کا الزام تھا۔

کوئنز یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لا کی پروفیسر شَیری ایکن نے کہا ہے کہ یہ اضافہ کسی سنگین جرائم میں اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ امیگریشن قوانین کے نفاذ میں بنیادی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ایسے معاملات میں افراد کو امریکا چھوڑنے کی ہدایت دی جاتی تھی، مگر اب انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران جاری سخت امیگریشن پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ شَیری ایکن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے جاری کردہ صدارتی احکامات کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور ملک بدری کے اقدامات سامنے آئے ہیں، جو بائیڈن دور میں اس شدت کے ساتھ موجود نہیں تھے۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کم از کم چھ کینیڈین بچے بھی امریکی حراست میں رکھے گئے، جن میں ایک بچہ 51 دن تک زیرِ حراست رہا، حالانکہ امریکی عدالتی معاہدے کے تحت بچوں کو 20 دن سے زیادہ حراست میں رکھنے کی اجازت نہیں۔ کچھ بچوں کو جنوبی ٹیکساس کے فیملی ریزیڈینشل سینٹر میں رکھا گیا، جہاں سہولیات کی کمی، طبی امداد اور قانونی معاونت نہ ہونے پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جا چکے ہیں۔

عالمی امور کینیڈا کے مطابق امریکی حراست میں موجود یا سابقہ طور پر حراست میں لیے گئے کینیڈین شہریوں کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں، اور ایسے معاملات میں کینیڈین حکام قونصلر مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم قانونی مداخلت کی صلاحیت محدود ہے۔

ماہرین اور سابق اساتذہ کا کہنا ہے کہ امریکا میں امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے باعث کوئی بھی کینیڈین شہری معمولی غلطی پر بھی گرفتاری کی زد میں آ سکتا ہے، اسی لئے موجودہ حالات میں امریکا کے سفر سے گریز بہتر ہے۔