بیجنگ،اوٹاوا (نمائندہ خصوصی،ایجنسیاں)کینیڈا نے منگل کے روز بیجنگ کی جانب سے چینی گروپ سیاحوں کیلئے منظور شدہ سفری فہرست میں دوبارہ شامل کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیرِاعظم مارک کارنی نے حال ہی میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی، جسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک “اہم موڑ” قرار دیا جا رہا ہے۔
کینیڈین وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے اپنے بیان میں کہا کہ”چینی گروپ سیاحوں کیلئےکینیڈا کو دوبارہ منظور شدہ منزل (Approved Destination Status) دینا، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں ایک مثبت اور اہم قدم ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت عوامی روابط کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جو باہمی سمجھ بوجھ اور تعاون کی مضبوط بنیاد ہے۔”کینیڈا اپنے سیاحتی معیار، حفاظت اور مہمان نوازی کیلئے مشہور ہے، اور چینی سیاحوں کیلئےایک محفوظ اور خوش آئند مقام رہے گا۔”
بیجنگ میں چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ”یہ اقدام عوامی روابط کو فروغ دینے اور چینی و کینیڈین عوام کے درمیان دوستی کو مزید گہرا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ چین سرحد پار سفر کو مزید آسان بنانے کیلئے کینیڈا کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے اور امید کرتا ہے کہ کینیڈا بھی چینی سیاحوں کیلئےمحفوظ اور آرام دہ ماحول فراہم کریگا۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے شہر گیونگجو میں منعقدہ ایپک (APEC) سربراہ اجلاس کے موقع پر صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔
2017 کے بعد دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے جب 2018 میں ہواوے کی مالیاتی سربراہ مینگ وانژو کو وینکوور میں امریکی درخواست پر گرفتار کیا گیا جس کے بعد چین نے دو کینیڈین شہریوں مائیکل کووِرگ اور مائیکل اسپیور کو جاسوسی کے الزامات میں حراست میں لے لیا۔
دونوں شہریوں کی رہائی 2021 میں ہوئی، جب وانژو کا مقدمہ ختم کر دیا گیا۔ تاہم 2023 میں چینی مداخلت اور ڈس انفارمیشن کے الزامات کے بعد بیجنگ نے کینیڈا کو 70 ممالک کی سیاحتی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ماہرین کے مطابق، یہ تازہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور تعلقات کی ازسرِنو بحالی کی سمت پیش رفت ہو رہی ہے۔
قبل ازیں، عالمی سیاحت تنظیم کے مطابق، 2019 میں چینی سیاحوں کا عالمی سیاحت میں خرچ 20 فیصد تھا، جب کہ 2024 میں کینیڈین ہوائی اڈوں پر چین سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ معاشی اور تجارتی چیلنجز بدستور موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک کا تعلقات کی بہتری کی جانب یہ قدم خطے میں تجارتی و سفارتی استحکام کیلئے مثبت اشارہ ہے۔

