ٹورنٹو (نمائندہ خصوصی) صوبہ اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے طلبہ مالی معاونت پروگرام او ایس اے پی میں کی گئی تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ “کوئی مفت سہولت نہیں” اور “پیسہ درختوں پر نہیں اگتا”، جبکہ اپوزیشن کی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
اونٹاریو لبرلز اور اونٹاریو نیو ڈیموکریٹک پارٹی حالیہ دنوں میں طلبہ کے گروپس کو اسمبلی میں لا کر ٹیوشن فیس میں منجمدی ختم کرنے اور مالی معاونت کو زیادہ تر قرضوں پر منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کروا چکی ہیں۔
فورڈ نے پیر کے روز کہا کہ انہیں طلبہ کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں کچھ سخت اور کچھ پیشہ ورانہ انداز کے ہیں، تاہم انہوں نے فیصلے پر نظرثانی کے کوئی آثار ظاہر نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے لینا کوئی پیدائشی حق نہیں، البتہ کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنا حق ہے۔
حکومت نے 12 فروری کو اعلان کیا تھا کہ کالجز اور یونیورسٹیز کو ہر سال دو فیصد تک ٹیوشن فیس بڑھانے کی اجازت دی جائے گی، ساتھ ہی انہیں اضافی حکومتی فنڈز بھی دیے جائیں گے۔ تاہم سب سے زیادہ ردعمل او ایس اے پی کے ڈھانچے میں تبدیلی پر سامنے آیا ہے۔
حکومت کے مطابق پہلے او ایس اے پی کا تناسب تقریباً 85 فیصد گرانٹس اور 15 فیصد قرضوں پر مشتمل تھا، لیکن آئندہ تعلیمی سال سے طلبہ کو زیادہ سے زیادہ 25 فیصد فنڈنگ گرانٹس کی صورت میں ملے گی اور باقی اکثریت قرضوں پر مبنی ہوگی۔
کینیڈین فیڈریشن آف اسٹوڈنٹس سے وابستہ ایڈیزے مبالاجا کا کہنا ہے کہ او ایس اے پی کو بنیادی طور پر قرضہ پروگرام بنانے سے طلبہ پر پہلے سے زیادہ قرضوں کا بوجھ پڑے گا اور یہ اونٹاریو کی آئندہ افرادی قوت کے مالی مستقبل کو خطرے میں ڈال دے گا۔
پریمیئر فورڈ کا کہنا تھا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے اور کالجز کو 7 ارب ڈالر سبسڈی دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ مانگ میں موجود شعبوں، مثلاً صحت کے شعبے، میں تعلیم حاصل کریں تو قرضوں کی ادائیگی کے لیے چار سال کی مہلت اور بعد ازاں مزید چھ ماہ کی رعایت دی جائے گی۔
تاہم طلبہ نمائندگان کا کہنا ہے کہ سست معیشت اور بلند بے روزگاری کے باعث صورتحال تشویشناک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں 15 سے 24 سال کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 15.6 فیصد جبکہ 25 سے 54 سال کی عمر کے افراد میں سات فیصد رہی۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے گریجویٹ اسٹوڈنٹس یونین کے نمائندے نکولس سلور نے کہا کہ ایسے وقت میں طلبہ پر مزید قرض ڈالنا جب مستحکم روزگار کے مواقع کم ہوں، اعلیٰ تعلیم کے حصول کی حوصلہ شکنی کرے گا۔
اونٹاریو این ڈی پی کی رہنما میرٹ اسٹائلز نے کہا کہ او ایس اے پی میں کٹوتیاں ایسے وقت کی گئی ہیں جب نوجوانوں میں بے روزگاری بلند ترین سطح پر ہے اور مہنگائی قابو سے باہر ہے، جس سے طلبہ پہلی ملازمت سے پہلے ہی ہزاروں ڈالر کے قرض تلے دب جائیں گے۔
فورڈ نے ایک بار پھر کہا کہ گرانٹس اور قرضے عوامی خزانے سے آتے ہیں اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کے استعمال پر جوابدہی ضروری ہے، کیونکہ یہ اب کوئی مفت سہولت نہیں رہی۔

