اٹاوا :کینیڈین پارلیمنٹ میں ایران جنگ پر حکومتی پالیسی پر بحث

اٹاوا (نمائندہ خصوصی) کینیڈا کی ہاؤس آف کامنز میں پیر کی رات ایران میں جاری امریکا–اسرائیل جنگ کے بارے میں حکومت کی پالیسی پر پارلیمانی بحث منعقد ہوئی،اراکینِ پارلیمان نے مختلف نقطۂ نظر پیش کیے۔

وزیر اعظم مارک کارنی کی غیر حاضری پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کی، اور ان سے موقف واضح کرنے کا تقاضا کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماﺅں نے کہا کہ کینیڈا عوام کو جنگ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں واضح جواب دینے کا مستحق ہے۔

وزیراعظم مارک کارنی نے بعد میں سوال و جواب کے سیشن میں کہا کہ کینیڈا ایران پر حملوں میں کبھی شرکت نہیں کرے گا اور اس معاملے میں غیرملکی فوجی حملوں کا حصہ نہیں بنے گا۔

بحث کے دوران وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا دہشت گرد حملوں پر سخت مؤقف اپناتا ہے، شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے حکومت کی ترجیحات میں کینیڈین شہریوں کی حفاظت کو سرفہرست قرار دیا اور کہا کہ کینیڈا نے امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی اس کا ارادہ ہے۔

آنند نے زور دیا کہ حکومت کا فوکس تناؤ یا کشیدگی کو کم کرنے پرہے اور ساتھ ہی کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ یہ بین الاقوامی امن کیلئےخطرہ ہے۔

یہ بحث اس وقت ہوئی ہے جب کینیڈین حکومت کے مؤقف پر اپوزیشن کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں اور اراکین نے حکومت پر پالیسی کی واضحیت اور عوام کو اعتماد دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔