سیاست اور آئین و قانون الگ الگ شعبے ہیں لیکن ان کو الگ کیا نہیں جا سکتا کہ سیاست کا مقصد ایوانِ اقتدار تک رسائی ہے اور اس کے لئے انتخابی عمل کی سیڑھیوں پر چڑھنا ہوتا ہے۔ یوں سیاسی عناصر کا پہلا واسطہ تو انتخابی قانون و قواعد سے پڑتا ہے اور اکثر یہی حوالہ آئینی نکات پر بھی لے جاتا ہے۔اس سلسلے میں بہتر منتخب رکن وہی مانا جاتا ہے جسے قانون و قواعد کا علم ہو کہ پہلے امتحان سے سرخرو ہونے کے بعد اگلا امتحان قومی یا صوبائی اسمبلی کا ایوان اور سینیٹ کا اجلاس ہوتا ہے،میرے پارلیمانی رپورٹنگ کے تجربے میں ایسے منتخب اراکین بھی آئے جنہوں نے ایوان کی کارروائی میں تو حصہ نہیں لیا،لیکن فائلوں کو خود وہیل چیئر پر بٹھا کر پھرتے رہے،اسی طرح یہ بھی سامنے آیا کہ پڑھے لکھے حتیٰ کہ قانون دان بھی کارروائی میں موثر حصہ نہ لے سکے لیکن کم پڑھے لکھے حضرات قواعد ازبر کئے ہوئے تھے۔میں نے یہ جو دو مختلف رویوں کا ذکر کیا ہے تو پنجاب اسمبلی میں لغاری برادران ایسے تھے جو اعلیٰ سرکاری عہدوں سے ریٹائر ہوئے اور سیاست میں آ کر اسمبلی کے رکن بنے، لیکن ان حضرات نے کارروائی میں کبھی حصہ نہ لیا، ہم لوگ پریس گیلری سے مشاہدہ کرتے کہ یہ حضرات ایوان کی نشستوں کی آخری قطار میں باہر جانے اور اندر آنے والے دروازے کے قریب بیٹھتے،ایک وقت میں ایک بھائی ایوان میں ہوتے۔جونہی دوسرے بھائی باہر سے اندر آتے وہ اُٹھ کر باہر چلے جاتے اور آنے والے بھائی ان کی نشست سنبھال لیتے۔ دوسری طرف ایک رکن رانا پھول تھے جو ایوان میں چاچا بھی کہلاتے۔بتایا گیا تھا کہ یہ مڈل پاس ہیں،لیکن ایوان کی کارروائی میں اتنی دلچسپی لیتے کہ ان کی تعریف ہوتی۔مرحوم رانا پھول محمد کو اسمبلی قواعد اور متعلقہ قوانین ازبر تھے اور ان کو عبور بھی حاصل تھا۔ جب بھی پارلیمانی کارروائی کا ذکر ہو، ان کی تعریف کے بغیر مکمل نہیں ہوتا،ان دِنوں ان کے صاحبزادے رانا محمد اقبال نشست سنبھالے ہوئے ہیں،ماشاء اللہ ایل ایل بی اور وکیل ہیں اب ان کو صوبائی وزیر قانون بنایا گیا ہے اس سے پہلے وہ بھی وزیر اور پھر پنجاب اسمبلی کے سپیکر رہ چکے ہیں۔ایک دور حاجی سیف اللہ، تابش الوری،مخدوم زادہ حسن محمود، خواجہ محمد صفدر جیسے حضرات کا بھی تھا، ہمارے دور پارلیمانی رپورٹنگ میں ان سے واسطہ رہا تو ایک مُنی اپوزیشن کے لیڈر رانا اکرام ربانی بھی تھے جو اتنی زبردست تیاری کر کے آتے کہ سپیکر کو انہیں،ان کی تقریر کے مطابق وقت دینا پڑتا تھا اگرچہ میں نے زیادہ تر پنجاب اسمبلی، مغربی پاکستان اسمبلی اور مجلس شوریٰ کے اجلاس کور کئے کہ اسلام آباد مہمان کے طور پر جانا ہوا جب بھی گئے اس لئے یاد ہے کہ1985ء سے پہلے کا یہ دور کیسا تھا اور اس میں کیسے کیسے حضرات تشریف فرما رہے یاد تو بہت لوگ آ رہے ہیں تاہم طوالت کے خوف سے بات یہیں تک رکھتے ہیں۔
یہ سب اس لئے یاد آیا کہ آج کے دور میں ایوانوں کی کارروائی کی خبر اور نشری حوالے دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ کیسا وقت آ گیا جب دلیل، آئین اور قانون کی بجائے ”تیلی رے تیلی تیرے سر پر کولہو“ والی بات ہوتی ہے۔مجھے محترم بیرسٹر حضرات اور حزبِ اختلاف کے اراکین کے موقف پر حیرانی ہوتی ہے، ان حضرات میں سابق پارلیمنٹیرین اور بیرسٹر حضرات بھی ہیں،ان حضرات کا اجتماعی موقف ہے کہ نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ پارلیمان بھی جعلی اور فارم47 کی پیداوار ہے۔ یہ فاضل اراکین برملا حکومت اور ایوانوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی کہتے ہیں اور اپنے اسی موقف کی بناء پر حزبِ اقتدار کی دعوت پر اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے اور اپنے پارلیمانی فرائض بھی نبھاتے نہیں ہیں۔ کوئی عامی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ حضرات ایوان میں زیادہ وقت ہلڑ بازی میں گذارتے ہیں،احتجاج کرتے ہیں، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑتے ہیں۔باہر آ کر میڈیا کے مائیکوں کے سامنے حزبِ اقتدار یا حکومت کو سخت لتاڑتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے کہ اسی حکومت اور ایوانوں کے اخراجات سے اپنے مشاہرے وصول کرتے،مراعات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اُس وقت ان کو غیر آئینی حکومت اور اسمبلی یاد نہیں آتی۔
اس سے بھی زیادہ حیرت مجھے گوہر خان اور سلمان اکبر راجہ جیسے سینئر آئین و قانون دان حضرات اور ان کے موقف پرہوتی ہے۔ راجہ صاحب نے تو27ویں ترمیم کے حوالے سے برملا یہ موقف اختیار کیا کہ یہ ایوان آئینی ترمیم کا اہل نہیں ہے کہ غیر آئینی ہے یہ وہی بات تو ہے کہ یہ بھی قومی اسمبلی کے رکن اور ماہر آئین ہیں، معذرت کے ساتھ ان سے دریافت کیا جا سکتا ہے کہ ان کے موقف کے مطابق کیا کسی مجاز فورم نے غیر آئینی قرار دیا یا خود انہوں نے سپریم کورٹ سے اپنے موقف کے لئے رجوع کیا۔
مجھے نہیں یاد کہ ان ماہرین آئین و قانون کی طرف سے ایسی کوئی درخواست دائر کی گئی ہو کہ یہ حکومت اور تینوں ایوان (سینیٹ+ قومی و صوبائی اسمبلیاں) غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں لہٰذا ان کو کالعدم قرار دیا جائے۔ یہ سب حضرات اپنی تقریروں اور میڈیا ٹاک میں ایسی باتیں ضرور کرتے ہیں،لیکن عملی طور پر عدلیہ سے رجوع نہیں کیا۔
میں اپنے عدالتی رپورٹنگ کے تجربے اور ایس ایم ظفر، سردار اقبال اور ایسے بہت سے سینئر قانون دانوں سے ملاقاتوں اور گفتگو سے یہ سمجھتا ہوں کہ آپ جو چاہے کہتے رہیں،جب تک کوئی مجاز عدالت آپ کے موقف کو جائز قرار نہ دے کچھ فرق نہیں پڑتا اور پھر یہ بھی دیکھا جائے کہ ان حضرات کی طرف سے26ویں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے اور اسے آئین سے متصادم قرار دینے پر دلائل جاری ہیں، یہاں بھی سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ اس ترمیم کو آئین سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے لیکن حکومت کی حیثیت کو ایسے چیلنج نہیں کیا گیا جیسا راجہ صاحب نے فرمایا ہے۔ یوں بھی میں پہلے بھی عرض کر چکا کہ محترم اپوزیشن اراکین اور وکلاء حضرات کی نظر میں یہ سب حکومتی ڈھانچہ غیر قانونی ہے لیکن یہ سب چل رہا ہے اور عدالتیں بھی درخواستیں سن رہی ہیں، تو میں پہلے بھی عرض کر چکا اور اب پھر گذارش کرتا ہوں کہ جس آئین اور قانون کا آپ ذکرکرتے ہیں،اسی کے تحت ”ڈی فیکٹو“ اور ”ڈی جیورو“ کی اصطلاح بھی ہیں اور یہ آئینی اور قانونی ہیں اس لئے آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے فرض نہیں پڑتا،آپ ان کو ”ڈی فیکٹو“ مان لیں وہ تو ”ڈی جیورو“ ہی مانتے اور دعویٰ کرتے ہیں۔ویسے بھی آپ جو تنخواہیں اور مراعات اور استحقاق کے دعویدار ہیں وہ کس کھاتے سے ہیں،آپ سے اگر براہِ راست یہ پوچھا جائے تو یقینا آپ ”ڈی فیکٹو“ اصطلاح ہی کا سہارا لیں گے،اس لئے براہِ کرم استحکام آنے دیں،حکومت کو مجبور کریں کہ وہ اپنے کسی بھی قانون یا مجوزہ آئینی ترمیم (27ویں) کے لئے بھی یہی موقف اختیار کر لیں اور پارلیمانی طور پر بحث کریں، حکومت کو بھی یہ موقع مہیا کرنا چاہئے۔ مسودہ مشتہر ہونے سے قبل بحث غیر متعلق ہے۔

