اپوزیشن کے 26 اراکین کی معطلی کا معاملہ، پنجاب اسمبلی میں بڑا بریک تھرو سامنے آگیا

لاہور( نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 معطل اراکین کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں فریقین متعدد معاملات پر متفق ہو گئے ہیں، جب کہ آئندہ چند روز میں مزید مشاورت کے لیے دوبارہ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت ہونے والے ڈھائی گھنٹے طویل اجلاس میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مثبت گفتگو ہوئی، جس میں مستقبل میں پنجاب اسمبلی کا ماحول بہتر بنانے اور باہمی عزت کے اصول کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 معطل اراکین کے مسئلے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جو تقریباً ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔ اجلاس میں دونوں جانب سے اراکین اسمبلی نے شرکت کی اور معاملے کے حل کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے بتایا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والی بات چیت انتہائی مثبت رہی، اور اجلاس میں زیر غور آنے والے نکات کو وہ اپنی پارلیمانی پارٹی کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تین سے چار روز کے دوران ایک اور سیشن منعقد کیا جائے گا تاکہ معاملات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

دوسری جانب، صوبائی وزیر خزانہ اور حکومتی نمائندے مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ اجلاس خوشگوار ماحول میں ہوا، اور حکومت کی کوشش ہے کہ اسمبلی کو عوامی ایوان کی حیثیت سے فعال رکھا جائے، جہاں ہر رکن — خواہ وہ حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے — کی عزت برقرار رہے۔

حکومتی اور اپوزیشن نمائندوں نے اتفاق کیا کہ پنجاب اسمبلی کی پرانی روایات کو زندہ کیا جائے گا، اور ایوان سے گالم گلوچ اور مار دھاڑ کی سیاست کا خاتمہ کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت پنجاب کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، اور اس سے توقع کی جا رہی ہے کہ ایوان کا ماحول مستقبل میں مزید سنجیدہ اور جمہوری اقدار پر مبنی ہو گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں