اگر ایران میں پُرامن مظاہرین پر تشدد ہوا تو ہم مداخلت کریں گے:ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (ڈان، فرنچ24، رائٹرز، اے ایف پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا ہے کہ اگر ایران میں پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو ریاستہائے متحدہ امریکا مداخلت کرے گا اور مظاہرین کے حفاظت کے لیے کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا”اگر ایران پرامن مظاہرین کو قتل کرتا ہے تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا، ہم ‘پورے طور پر الرٹ اور تیار’ ہیں۔”یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں اقتصادی بحران، کرنسی کی قدر میں گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاجات ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل چکے ہیں، جن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق یہ احتجاجات پچھلے تین برس کی سب سے بڑی عوامی تحریک ہیں، جو ابتدا میں معاشی بدحالی کے خلاف شروع ہوئیں اور پھر ملک بھر میں عدم اطمینان کی صورت اختیار کر گئی ہیں۔

امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران میں پُرامن مظاہرین کے حقوق اور ان کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے پر تیار ہے، تاہم مداخلت کی نوعیت (سفارتی، اقتصادی یا عسکری) واضح نہیں کی گئی۔ایرانی حکام نے امریکی بیان پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی مداخلت خطے میں افراتفری اور عدم استحکام بڑھا سکتی ہے، جبکہ امریکی اہلکار کہتے ہیں کہ مظاہرین کے حقوق عالمی توجہ کا موضوع ہیں۔