سورج کی روشنی مؤثر طریقے سے منعکس، درجہ حرارت میں 5 سے 20 ڈگری کمی، توانائی کی بچت میں اہم کردار
لندن (خصوصی رپورٹ) تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت اور شہری علاقوں میں “اربن ہیٹ آئی لینڈ” کے اثرات کے پیش نظر بین الاقوامی سائنسدانوں کی ٹیم نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کی مدد سے ایک ایسا انقلابی پینٹ تیار کر لیا ہے جو عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے میں نہ صرف مؤثر ہے بلکہ ایئر کنڈیشننگ کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی لا سکتا ہے۔
برطانوی اخبار “دی گارجین” میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ تھرمل پینٹ امریکا، چین، سنگاپور اور سوئیڈن کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق کا نتیجہ ہے۔ یہ پینٹ عام رنگوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے اور حرارت کو خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ پینٹ گرمیوں میں دوپہر کے وقت سورج کی براہ راست شعاعوں کے باوجود عمارت کے اندرونی درجہ حرارت کو 5 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم رکھ سکتا ہے۔تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ پینٹ نہ صرف عمارتوں بلکہ گاڑیوں، ریل گاڑیوں، اور برقی آلات پر بھی لگایا جا سکتا ہے، خصوصاً ان آلات پر جنہیں بدلتے موسمی حالات کے باعث زیادہ ٹھنڈک کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ پینٹ کسی گرم شہر میں واقع چار منزلہ اپارٹمنٹ بلاک کی چھت پر لگایا جائے تو سالانہ تقریباً 15800کلو واٹ بجلی کی بچت ممکن ہے، جو کہ ایک بڑی مقدار ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر یہ پینٹ ایک ہزار عمارتوں پر استعمال کیا جائے تو اتنی توانائی بچائی جا سکتی ہے جو ایک سال تک 10000ایئر کنڈیشنرز چلانے کیلئےکافی ہو۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے اب سائنسدان تخلیق سے پہلے ہی مطلوبہ نتائج کی پیش گوئی کر سکتے ہیں، جو کہ روایتی تحقیق سے مختلف اور کہیں زیادہ مؤثر طریقہ کار ہے۔ماہرین نے اس پیش رفت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جدوجہد میں ایک نئی امید اور توانائی کی بچت و ماحول دوست ٹیکنالوجی کے شعبے میں انقلابی قدم قرار دیا ہے۔

