ایتھوپیا:ہیلی گُبی آتش فشاں کے بادل پاکستان پر نمایاں اثر نہیں ڈالیں گے: محکمہ موسمیات

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پاکستان میٹروولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) نے پیر کو تصدیق کی کہ ایتھوپیا کے شمال مشرقی علاقے میں واقع ہائلی گبی آتش فشاں کے دھوئیں کے بادل پاکستان کے ساحلی علاقوں بشمول کراچی پر کوئی اہم اثر نہیں ڈالیں گے اور یہ بحر عرب کے اوپر سے گزر جائیں گے۔

ایتھوپیا کے آفار علاقے میں واقع یہ آتش فشاں اتوار کو کئی گھنٹوں کے لیے پھٹا، جو تقریباً 12000 سال میں اس کی پہلی دستاویزی پھٹنے کی صورت تھی۔ دھوئیں کے بادل 14 کلومیٹر تک آسمان میں بلند ہوئے اور قریبی دیہاتوں پر چھا گئے اور بحر عرب کی طرف بڑھ گئے۔

میٹ آفس کے ترجمان انجم نذیر زئیغم نے گفتگو میں کہا کہ کراچی میں اس کا اثر محسوس نہیں ہوگا اور یہ بادل بحر عرب، عمان اور ممبئی کے فلائٹ ریجن میں جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ دھوئیں کے بادل کی اونچائی تقریباً 40000سے 50000 فٹ ہے اور یہ آج گوادر سے 60 بحری میل جنوب میں دیکھا گیا۔ متعلقہ حکام کو وارننگ جاری کر دی گئی ہے جو ابھی برقرار ہے۔

ایتھوپیا کے مقامی ذرائع کے مطابق دھماکہ آتش فشاں کے مرکزی پہاڑ سے آٹھ کلومیٹر فاصلے پر ہوا۔ مقامی ٹی وی نے اسے “زبردست دھماکہ” قرار دیا اور بتایا کہ آواز اور دھماکے کی شدت گزشتہ واقعات سے کہیں زیادہ تھی، جسے دجبوٹی، ٹیگرے اور ولو کے علاقوں میں بھی محسوس کیا گیا۔

سمتھ سونین انسٹی ٹیوٹ کے گلوبل وولکینزم پروگرام کے مطابق ہائلی گبی کی ہولوسین دور میں کوئی معروف پھٹنے کی تاریخ نہیں ہے۔ مشی گن ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے وولکینولوجسٹ سائمن کارن نے تصدیق کی کہ ہائلی گبی کے ہولوسین میں کوئی ریکارڈ شدہ پھٹنے نہیں ہوئے۔

فلائٹ ٹریکنگ مانیٹر FlightRadar کے مطابق دھوئیں کے بادل کی سمت بحر عرب اور جزیرہ نما عرب کی طرف ہے۔ VAAC کے انٹرایکٹو نقشے کے مطابق یہ دھوئیں کا بادل جنوبی سندھ کے اوپر سے گزرتا ہوا شمال مشرق کی طرف بھارت جائے گا۔